Monday, December 17, 2012

Translations from Sohrab Sepehri's poetry

Sohrab Sepehri. Source: Wikipedia Persian


A few day ago I found Sohrab Sepehri's (1928-1980) facebook page. He is a popular Persian poet, well known in Iran.

Personally for me, his poetry is sublime and easy to understand. I thought it's a good idea to translate some of his prose work.


مرد بقال از من پرسید
چند من خربزه می خواهی؟
من از او پرسیدم
دل خوش سیری چند؟


The trader questioned,
"How many melons do you want?"
I questioned,
"How many will make my heart full?"

***

زندگی ، سبزترین آیه ، در اندیشه برگ
زندگی، خاطر دریایی یک قطره، در آرامش رود
زندگی، حس شکوفایی یک مزرعه، در باور بذر
زندگی، باور دریاست در اندیشه ماهی، در تنگ
زندگی، ترجمه روشن خاک است، در آیینه عشق
زندگی، فهم نفهمیدن هاست

Life - the greenest leaf in the [tree of] thought
Life - the thought of a drop in a calm river
Life - a sowed thought in a beautiful farm 
Life - What a fish thinks of ocean when death nears
Life - a metamorphosis of [dark] clay into light
LIFE - KNOWLEGE THAT CAN'T BE KNOW

***

صدا كن مرا صدا كن مرا
صداي تو خوب است‌.
صداي تو سبزينه آن گياه عجيبي است
كه در انتهاي صميميت حزن مي رويد.
در ابعاد اين عصر خاموش

Call Me! Call Me!
Your Call is (the most) beautiful.
Your call is of an unknown plant
that shakes in solemn intimacy.
(but) it can't be heard in this (physical) world

***


پشت هيچستانم‌.
پشت هيچستان جايي است‌.
پشت هيچستان رگ هاي هوا، پر قاصدهايي است
كه خبر مي آرند، از گل واشده دورترين بوته خاك‌.


No-where is behind me.
Behind No-where is a place.
Behind No-where, the weather is uncanny.
(this) news has come from the most beautiful flower present at the furthest edge


***


به سراغ من اگر مي آييد،
نرم و آهسته بياييد، مبادا كه ترك بردارد
چيني نازك تنهايي من‌.

If you come to my dwelling
Come quietly and calmly; 
So that my intricate silence
doesn't shun asunder.

Sunday, December 16, 2012

سازشی نظریات - حصہ دوم

البرٹ آئینستائن

سازشی نظریات بنیادی طور پر ذہنی بیماروں کی ایجاد ہوتے ہیں، جو جنتِ الحمقا میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اُس میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جس سماج میں بہتری نظر نہ آرہی وہ، وہاں ایسے سازشی لوگ برساتی کیڑوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور وقتی سکون کا باعث بنتے ہیں۔

پچھلے بلاگ میں میں نے سازشی نظریے کی پہلی قسم کے بارے میں لکھا تھا۔ جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ کس طرح خیالات اور الفاظ کو سادہ کرکہ چیزوں کی حقیقت کو تبدیل کردیا جاتا ہے، اور کس طرح تشریحات کو ریاستی مفادات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسی سازشیں عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں نظر آتی ہیں، اور عام آدمی تک کتابوں یا لیکچروں کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ ان کتابوں کی وجہ سے ایک خاص قسم کا "مائنڈ سیٹ" (mindset) پیدا ہوتا ہے، جو ہر خیال کو سادہ تر کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ یہ طبقہ ہر واقعے اور خیال کیلئے ایک لفظ یا کوئی چھوٹا سا فقرا ترتیب دیتا ہے جو ہر موقعے پر اپنا جادو دکھاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات سمجھ میں آنے لگی ہے، ہر چیز اپنے اصل مقام پر ہے، اور بس کچھ ہی دیر میں مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی شروع ہو جاتی ہے۔

اس دوسری قسم کے سازشی طریقے کا نام میں نے "رٹو طوطا" رکھا ہے، کیونکہ ہر مسئلہ کیلئے ان کے پاس صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے جس کو وہ بار بار دھراتے چلے جاتے ہیں۔

رٹو طوطا

رٹو طوطا نظریہ آپ کو عام لوگوں میں سننے کو زیادہ ملے گا۔ یہ عام لوگ ہم میں سے ہی ہوتے ہیں، جو دانشوروں، مولویوں، میڈیا اور لیکچروں کی وجہ سے ذہنی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کا نتیجا یہ ہوتا ہے کہ قیاص کرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے، اور اس مراحلے پر وہ دانشواروں یا خطیب کی بات میں استعمال ہونے والے سب سے اہم یا مقبول لفظ کو ہر سوال کا جواب سمجھتے ہیں۔ اور اس ہی لفظ کو ہر مسئلے کی دلیل یا سبب مانتے ہیں۔

اس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثلاً، مندرجہ ذیل گفتگو:


۹/۱۱ کا واقعے کس نے کیا؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
مہران بیس پر جملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
جی-ایج-کیو پر حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پاکستان میں دہشت گردی؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
مسلمانوں کی علمی ابتری؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
برما و غزہ میں حالات؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
افغانستان میں شیعہ اور غیز-پختونوں کا قتل؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
عراق میں روز حملے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پولیو کے قطرے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
ڈرون حملے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
بھارت کو پسندیدہ ریاست قرار دینا؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
سقوطِ ڈھاکہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
ملال پر حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پشاور میں حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
عائشہ عمر کی ٹی-شرٹ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"


ایک اور مثال:


پاکستان میں کرپشن؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں بے روز گاری؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں دہشت گردی؟
"زردادی کی وجہ سے"
بجلی کی کمی؟
"زردادی کی وجہ سے"
آٹا مہنگا ہو گیا؟
"زردادی کی وجہ سے"
سی-این-جی کی کمی؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں بدحالی؟
"زردادی کی وجہ سے"


نظریے کا ایک مقصد مستقبل کا خاکہ تراشنا بھی ہوتا ہے، اس لئے یہ سازشی نظریہ مستقبل پر بھی طبع آزمائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سازشی نظریہ کے اندر سے یا تو عمران خان پیدا ہوتا ہے یا کوئی جنت جیسی اسلامی ریاست۔



تبدیلی کا نشان؟
"صرف عمران خان"
کرپشن سے پاک پاکستان؟
"صرف عمران خان"
دہشت گردی سے پاک وطن؟
"صرف عمران خان"
روز گار سب کے لئے؟
"صرف عمران خان"



جب کوئی سماج دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے مسائل کا تعین بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

ضمناً، وہ حقیقی عوامل جو ہمارے سماج کی تباہی کی اصل وجہ ہیں، ان کو اپنا کام کرنے کی اور زیادہ مہلت مل جاتی ہے اور وہ اور زیادہ تباہی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے عام آدمی اس سازشی نظریے میں اور زیادہ ڈوب جاتا ہے کیونکہ وہ حقیقت جاننے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ ذہنی ابتری کا ایسا کنواں ہے جس میں ہر دوسرا قدم اور زیادہ ابتری کی طرف لے جاتا ہے۔

"رٹو طوطا" سازشی نظریے کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہر چیز ثابت کردیتا ہے۔ 

مشہور جرمن فلسفی کارل پوپر نے نظریے کی طاقت جانچنے کیلئے ایک پیمانا ایجاد کیا ہے جسکو اس نے 'فالسی فیکیشن' (falsification) کا نام دیا تھا۔ پوپر کے مطابق کسی نظریے کے صحیح ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی واقعے کے واقعہ نہ ہونے کو ثابت کرے۔

مثلاً، اگر ہم کسی ماہر نفسیات سے پوچھیں ہیں کہ "ایک انسان دوسرے انسان کو- جو کہ سمندر میں ڈوبنے والا ہے- اس کی جان بچانے کیلئے کودے گا یا نہیں؟"

 اگر وہ آدمی کود جاتا ہے تو ماہر نفسیات بولیں گے کہ " اس کا لاشعور اس کے شعور پر حاوی ہوگیا تھا"(repression)۔ اگر وہ نہیں کودتا تو اُن کا جواب ہو گا کہ "اس کی کوشش سماج میں مثبت طور پر تبدیل نہ ہوسکی۔" (sublimation).

اس ہی وجہ سے پوپر نفسیات کو سائنسی نظریہ نہیں بولتا۔

اس ہی نسبت سے سازشی نظریات کو 'سائنسی' کہنا ناممکن ہے۔ اگر ان سازشی لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیا "کیا طالبان پاکستان کے ایٹم بم تک پہنچ سکتے ہیں؟" جو "ہاں" بولیں گے۔ وہ کہیں گے کہ، "اصل طالبان پاکستان کے دوست ہیں، باقی یہود کی سازش۔" جو نہیں بولیں گے، ان کی رائے ہوگی، "یہود و نصاری کبھی ہمارے اسلامی بم کےقریب نہیں آسکتے"۔اس لئے ان کی تھیوری سے سب کچھ ثابت ہو رہا ہے، اس لئے حقیقتاً کچھ بھی ثابت نہیں ہورہا۔

تیسری اہم بات اس "رٹو طوطا" نظریے پر یہ ہے کہ اس پر سائنسی تنقید ناممکن ہے۔ یہ لوگ ذرائع ابلاغ کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ شاید ان کو معلومات الہام ہوتی ہیں، یا کوئی فرشتہ ان کو آکر بتاتا ہے۔ چند سازشی لوگ تو اپنی تھیوری پر بلکل ویسے ہی یقین کرتے ہیں جیسے علمِ غیب پر یقین۔ یہ لوگ فرماتے ہیں کہ جس طرح مذہب میں ہر سوال کا جواب ممکن نہیں، اس ہی طرح ان کے سازشی نظریہ میں خرابی کو صرف ایک وقتی مسئلہ سمجھا جائے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گا!

کمال کی بات یہ ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ کی خبر ان کے حق میں ہو تو یہ لوگ آنکھ بند کرکہ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔

سازشی نظریات بنیادی طور پر ذہنی بیماروں کی ایجاد ہوتے ہیں، جو جنتِ الحمقا میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جس سماج میں بہتری نظر نہ آرہی وہ، وہاں ایسے سازشی لوگ برساتی کیڑوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور وقتی سکون کا باعث بنتے ہیں۔

Friday, December 14, 2012

سازشی نظریات - حصہ اول

البرٹ آئینستائن

اگر کوئی شخص سورج کو تارا بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ اسے چولھا بولنا شروع کردے تو سنے والے کو نہ سورج سمجھ آئے گا، اور نہ ہی چولھا۔

جرمن - امریکی ماہرِ طبیعات البرٹ آئینستائن نے کہا تھا: "چیزوں کو سادہ کرو، لیکن بلکل ہی سادہ نہ کردو"۔ اس کا مطلب یہ تھا کی خیالات کو آسان لفظوں میں بیان کرنا چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خیال کو آسان بنانے کیلئے خیال ہی کو تور مروڑ دیا جائے۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ اصل خیال بھی متروک ہو جاتا ہے، اور جس خیال کو ہم حقیقی سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ صرف ہمارا ذہنی فریب ہوتا ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص سورج کو تارا بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ اسے چولھا بولنا شروع کردے تو سنے والے کو نہ سورج سمجھ آئے گا، اور نہ ہی چولھا۔


دوسرا پہلوں اس قول کا یہ بھی ہے کہ اگر کوئی نظریہ ایک یا دو لفظوں میں ہر سوال کا جواب دے رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظریہ "بہت زیادہ سادہ" ہوگیا ہے۔ اب یہ نظریہ سورج کو چولھا اور چولے کو سورج بولنا شروع ہو جائے گا۔ یہ اس ہی طرح ہے جس طرح بچپن میں میرے پاس ایک "سُپر مین" تھا جس کے سینے پر ایک بٹن لگا ہوا تھا۔ میں جب بھی بٹن دباتا تو اس میں سے آواز آتی:

"آئی آیم فرام کریمٹان! سُپر مین!" (I'm from Krypton! Super Man!s)


Thursday, November 29, 2012

آردیشر کاوسجی کے اعزاز میں

آردیشر کاوسجی ایک انٹرویو کے دوران

انھوں نے زندگی خدمتِ خلق میں گزاری اور انتقال کے بعد پارسی مذہب کے مطابق اپنا جسم پرندوں کی خدمت میں پیش کردیا۔ یہ دنیاوی خدمت کا "بعد از مرگ تسلسل" سمجھا جاسکتا ہے۔


انگریزی اخبار ڈان پڑھنے کی ایک وجہ کاوسجی صاحب کا کالم تھا. وہ باتیں تو سیدھی سادی لکھتے تھے، لیکن ہمارے سماج میں سیدھی سادی بات کرنا ہی مشکل کام ہے۔ معمولی معمولی باتوں کو یہاں اس طرح پہاڑ بنایا جاتا ہے جیسے کہ اس کے علاوہ اور کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ مثلاً، چورنگی کا نام بھگت سنگھ پر رکھا جائے یا نہیں، آلو اور ٹماٹر بھارت سے درآمد کیے جائیں یا بھارت سے بذریعہ دبئی پاکستان لائے جائیں۔ سی- این - جی کی ہرتال دو دن ہو یا تین دن اور چار گھنٹے کی ہو یا پانج گھنٹے کی، پولیس کی وردی کا رنگ بدلا جائے یا نہیں، حتیٰ کہ ملالہ کو ایجنٹ کس کس طرح ثابت کیا جائے، یہ وہ سارے فلسفینہ مباحث ہیں جن پر ہمارا کافی وقت صرف ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی ہمیں وقت کا کیا کرنا، آدھا وقت اس کام میں صرف ہو جاتا ہے، کچھ وقت لوڈ شیڈنگ کی نظر، اور باقی بچا کچا وقت پٹرول پمپ کی طویل قطاروں کی نظر۔ 

لیکن کاوسجی صاحب کچھ مختلف نقطہِ نظر کے مالک تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی جس ڈھپ سے گزاری اس کو "آزاد درویش" کا نام دیا جاسکتا ہے۔ کمال کی شخصیت کے مالک اور زندہ دل آدمی۔ مجھے قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کے بارے میں ان سے معلوم ہوا، آبادی میں پاگل پن حد تک اضافے سے پاکستان اور خصوصاً کراچی کو کیا نقصانات درپیش ہیں، اس کا بھی ان سے پتہ چلا۔ سماج میں بڑھتی ہوئی اسلامی انتہاہ پسندی کی بیماری کا ذکر بھی ان کے کالم میں ملتا تھا۔ پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کو سکیولر سے مذھبی تبدیل کرنے کی کوششوں کا ذکر بھی بہت نمایاں تھا۔ کاوسجی صاحب نے ہمیشہ 'جناح صاحب کے ۱۱ اگست والے پاکستان' کی حمایت کی اور آخری دم تک کرتے رہے۔ ان کے اپنے بقول، وہ کالم صرف ذہنی وردش کیلئے لکھتے تھے نہ کہ پیسے بنانے کیلئے۔ کیونکہ کالم سے ہونے والی آمدنی ان کی ٹائی کی قیمت سے بھی کم تھا۔

کیا کاوسجی صاحب اپنی ۲۲ سالہ صحافتی زندگی میں کسی نقطے تک پہنچے؟ اس کا جواب انھوں نے اپنے آخری کالم میں خود دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"سال کے اس آخری اتوار کو، یہ میرا اس اخبار کیلئے آخری کالم ہے۔ اب، ۸۵ سال کی عمر میں، میں تھک چکا ہوں اور اس ملک سے ناامید بھی ہوں۔ ایسا ملک جو کسی طرح بھی اپنے کِل سیدھے کرنے میں ناکام رہا۔ میں نے اس کام کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔"
کاوسجی صاحب نے اپنی زندگی میں بے انتہاہ خدمتِ خلق کی۔ دی سٹیزن فائونڈیشن (The Citizen Foundation) ہو یا ایس - آئی - یو - ٹی (SIUT)، انھوں نے ان اداروں کی دل کھول کر امداد کی۔ کراچی شہر میں غیر قانونی اجارہ داری اور تعمیرات کے خلاف بھی خوب سرگرم رہے۔ انھوں نے زندگی خدمتِ خلق میں گزاری اور انتقال کے بعد پارسی مذہب کے مطابق اپنا جسم پرندوں کی خدمت میں پیش کردیا۔ یہ دنیاوی خدمت کا "بعد از مرگ تسلسل" سمجھا جاسکتا ہے۔

کیا نوجوانوں کیلئے ان کے پاس کوئی حل تھا؟ بلکل تھا۔ جتنی جلدی ہو سکے ملک چھوڑ دو اور جو نہ چھوڑ سکے وہ برداشت کرے۔ شاید یہی ممکنہ حل ہے اس سماج میں جینے کا۔ انھوں نے بہت سارے طالبِ علموں کو اسکالر شپ دیں تاکہ وہ باہر جاکر علم حاصل کریں۔ اس سے ملک کے حالات بہتر ہوں یا نہ ہوں کم از کم ان کے اپنے حالات ضرور بہتر ہوگئے ہوں گے۔ اپنے مشورے پر انھوں نے خود اس لئے عمل نہیں کیا کیونکہ وہ آخری دم تک یہاں بسنے والے لوگوں سے تعلق قائم رکھنا چاہتے تھے۔

عام لوگوں کو کاوسجی صاحب کا جو چہرہ نظر آیا وہ ٹیلی وژن اسکرین کا تھا۔ یہاں پر انھوں نے 'عام اردو' کے استعاروں سے سماج کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ایک پروگرام کے دوران فرماتے ہیں، " سالےگٹر بنا نہیں سکتے، ایٹم بم چلائیں گے!" ٹیلی وژن والے کاوسجی نے لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنا لی۔

Wednesday, November 14, 2012

عطاء اللہ کا معاشرہ

ہمارے سماج کی کیفیت۔ ذرائع: businessweek.com

عطاء اللہ بار بار قلم اٹھاتا اور پھر رکھ دیتا۔ کاغذ پر کچھ نشانات بناتا اور پھر مٹا دیتا۔ ریاضی کا طالبِ علم تھا، پر ریاضی کے علاوہ بہت ساری چیزیں اس کے ذہن میں شورش برپا کرتی تھیں۔ سقراط کے بقول انسان ایک سیاسی جانور ہے ۔ آئنسٹائن کا کہنا ہے کہ انسان کو ریاضی اور سیاست کے درمیان اپنا وقت گزارنا چاہیے اور اپنے وقت کا بہترین امتزاج ڈھنڈنا چاہیے۔ پر عطاء اللہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کرنے سے قاصر تھا۔


سائنس اور ریاضی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہ علم امن اور خوشحالی کے دور میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کی شروعات میں جرمنی اور اگلستان کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ جرمنی کیمبرج اور آکسفورڈ پر حملہ نہیں کرے گا اور جواباً انگلستان جامعہِ ہیمبرگ (Hamburg) کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ دونوں ملکوں نے اپنے عہد پر عمل کیا اور دورانِ جنگ بھی علم کو پنپنے کا موقع دیا۔



مگر عطاء اللہ کاملک نہ تو جرمنی تھا اور نہ ہی انگلستان۔ عطاءاللہ پاکستان کا شہری تھا، اور اُسے ہر لمحے کسی نہ کسی قسم کے عذاب سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ عذاب ذہنی کوفت سے شروع ہوتا تھا اور پھر بھنور کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ مسلسل ایک ہی چیز کے بارے میں سوچنے سے اس میں نفسیاتی مرض بھی پیدا ہوگیا تھا۔ عطاء اللہ کو اب اپنا نام بھی پسند نہیں آرہا تھا۔ ہم کلامی کرتے ہوئے بولا، "ملالہ کے قاتل کا نام بھی یہی تھا، اور میرا بھی یہی ہے؟ دنیا میں اربوں نام ہیں پھر ایسا اتفاق صرف میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے؟ کیا مُرفی کا قانون صرف مجھ پر ہی لاگو ہوتا ہے؟ ایسی بدقسمتی صرف میرے ساتھ ہی کیوں؟" ۔ عطاء اللہ یہ جانتا تھا کہ ناموں سے کوئی فرق نہیں ہوتا، پر اس کو اپنے نام سے ملالہ کا قاتل یاد آتا تھا۔



قاتل کا یاد آنا تو ایسی چیز تھی، جس کو عطاءاللہ بھول سکتا تھا۔ پر آئے دن ہونے والی قتل و غارت گری، اس کے ذہن میں تازہ تھی۔ وہ کسی طرح اس بچے کو بھول نہیں سکتا تھا جس کو احمدی ہونے پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ اس لڑکی کا ساتھ نہ دینے پر اپنی شرمندگی کیسے بھولتا جو اپنے علاقے میں عورتوں کی بہتری کیلئے کام کررہی تھی۔ کل ہی اس عورت کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ عطاء اللہ کو اپنا دوست علی مہدی بہت یاد آرہا تھا، جس کے ساتھ اس نے پچھلے سال بلوچستان میں جشنِ نوروز منایا تھا۔ اس کی تین بیٹیوں کے سر پر اب کوئی باپ نہیں رہا تھا۔ علی مہدی کو مذہب کے نام پر مار دیا گیا اور لاتعداد اور علی مہدی مار دیے گئے۔ 



عطاء اللہ کو اپنی پیاری دوست امریتہ کماری بہت یاد آرہی تھی۔ کچھ ماہ قبل اس کی اور امریتہ کی ملاقات ایک بین الاقوامی طبعیاتی نمائش میں ہوئی تھی. امریتہ کو یہ بات جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ عطاء اللہ اس کا ہم وطن ہے۔ امریتہ نے عطاء اللہ کو ڈاکٹر سلام کی تصویر تحفے کے طور پر پیش کی تھی جس کے پیچھے اس نے کارل سیگن (Carl Sagan) کا قول اپنے قلم سے لکھا تھا: "کسی چیز کو سمجھنا دنیا کا سب سے خوبصورت عمل ہے۔" ڈاکٹر سلام کی وہ تصویر اس کی میز پر ہمشہ رکھی رہتی تھی اور وہ قول تو عطاءاللہ کی زندگی کا مقصد تھا۔ لیکن امریتہ سے بات کیے ہوئے بھی ایک سال گز گیا تھا۔ معلوم نہیں امریتہ کہاں ہوگی؟ کیا اس کا بھی مذہب کسی نے زبردستی بدل دیا ہے یا وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھارت چلی گئی ہے۔ اگر وہ اس ملک میں موجود بھی ہے تو کیا اُسے سوچنے کی آزادی موجود ہے؟ کیا امریتہ پاکستان، جو اس کا اپنا ملک ہے، زیادہ خوشی کے ساتھ اپنا کام کرسکتی ہے یہ دیارِ غیر اس کیلئے زیادہ مفید اور پرامن ہے؟ لیکن عطاء اللہ کے ذہن میں ایک اور خیال بھی تھا کہ شاید اس نے سائنس چھوڑ کر اپنے اہلِ مذہب کی خدمت شروع کردی ہو۔ کیونکہ اگر وجود ہی محفوظ نہیں تو کہاں کی سائنس اور کہاں کی ریاضی؟



عطاء اللہ جولیئس کو تو بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ جولئیس کا ہوٹل اس کے گھر سے پیڈل کے رستے پر تھا۔ اس کا چائے کا چھوٹا سا ہوٹل تھا جس میں بی بی مریم کی ایک تصویر صدر دروازے کے اوپر مزین تھی۔ عطاء اللہ کو وہ تصویر ہمیشہ دل فریب محسوس ہوتی تھی اور تصویر دیکھنے پر ہر بار اس پر ایک نئی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ مہینے بھر پہلے جولئیس گرجا گھر میں اپنی عبادت میں مصروف تھا جب اس پر حملہ ہوگیا۔ اس حملے میں وہ بہت زخمی ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ آگر اس نے اپنے ہوٹل پر سے بی بی مریم کی تصویر نہیں ہٹائی تو اگلی بار اس کا ہوٹل نہیں بچے گا۔ جولئیس کے دو چھّوٹے بیٹے تھے جن کا وہ واحد کفیل تھا۔ تصویر ہٹانا ہی زندہ رہنے کا واحد راستہ تھا۔ تصویر ہٹانے کے بعد جولیئس سہم سہم سا گیا تھا، اس کی چائے میں اب پہلی جیسی بات نہیں رہی تھی، رفتہ رفتہ چائے کی کولیٹی میں بھی فرق پڑنے لگا اور لوگوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اور پھر ایسا وقت آیا کہ جولئیس کو شہر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔



کبھی کبھی عطاء اللہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر اس کے ملک میں یہودی ہوتے تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا؟ کیا ان کاحال بھی رحمان بابا کے مزار کی طرح کردیاجاتا؟ خدا کا شکر ہے کہ یہاں کوئی یہودی نہیں، ورنہ ہٹلر بھی شرما جاتا۔



علی مہدی، امریتہ کماری، اور جولئیس کی یادیں عطاء اللہ کو کام کرنے سے روکتی ہیں۔ وہ جب بھی کام کرنا شروع کرتا ہے تو علی کے لطیفے، امریتہ کی ہنسی اور جولئیس کی چائے یاد آجاتی ہے۔



عطاء اللہ خیال کی وادیوں سے پھر حقیقت کی طرف آیا اور کاغذ پر ریاضی کرنا شروع ہوگیا۔ ابھی اس نے سوال ہی لکھا تھا کہ اچانک سے ایک ذور دار آواز آئی۔



"اللہ خیر کرے!"، عطاء اللہ بولا



اس نے اپنی کھڑکی کھولی تو لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ایک ہی سمت میں بھاگتا نظر آیا۔ وہ فوراً ریڈیو کی طرف لپکا اور خبر سنے کے بعد دوبارہ سکتے میں چلا گیا:



"مارکیٹ میں خودکُش حملہ، ۲۰ افراد جاں بحق۔۔۔۔۔۔"

Friday, November 9, 2012

IDEAS in Karachi - An Economic Perspective

Data taken from indexmundi.com

Pakistan Army's budget has increased exponentially after September 11 incident in United States. The reason for the initial sharp increase was the massive military aid from United States when Pakistan became a front line state against fight against global terrorism. 

The rally has since continued over the whole decade. During this era, Pakistan Army did a successful operation Swat extermination extremism from the valley. The army also organised a partially successful operation in South Waziristan. Inflation also caused the military budget to inflate.

Interestingly, the budget has decreased in %GDP  terms. As the military share as %GDP decreases, need for alternate sources of money is inevitable. There is nothing unusual or unique for an army to exhibit and sale weapons. All army in the corporate world do this. 

With a plunging %GDP share of Pakistan Army over the next decade, we can predict that the scale of  such military exhibitions might become large and more global.


The Armed Forces yet again come up with their lucrative idea of exhibiting some piece of nuclear bombs, re-engineered tanks, and probably some dozens of guns and military related equipments.

Arms are by definition tools of aggression and exploitation. In this age of rapid scientific development, the means of aggression have taken a big leap compared to the first gun invented in China during the 15th century. Today arms are seen in 'relative terms'. We hear the term 'arm race' frequently on the television and read this in the newspaper. What this terms basically mean is that the tools of aggression require constant up-gradation so that two countries can compete each other in a military struggle.

With this conception of 'arm race', weapon industry has become a lucrative capital generator. The race goes on, and nations throw billions of dollar in a deep abyss to keep up with her enemy (or self-created enemies). The Armed Force of Pakistan have staged yet another military exhibition to exploit more capital for keeping the military industry going.

The slogan of the exhibition says: "IDEAS: Arms for Peace". Isn't this an oxymoron just like Ansar Abbasi uses the term 'Liberal Extremist'?  It's like Ganges Khan erecting a 'tower of heads', and then saying that the tower was built in order to keep foreign citizen away from the conquered territory! If there had been no towers, more people would had had died in those medieval wars.

Although, there is no doubt that peace can come in a region through armed struggle. After WWII, Europe was blessed with eternal peace. The French Ambassador to Pakistan rightly said, "Before 1930s, peace was unimaginable between France and Germany, after 1940s, war is unimaginable." The use of weapon in South Waziristan by Pakistan Army is highly commendable. This is the only way to purge terrorist and extremists from the Pakistani soil.

On the other hand, weapons used with a philosophy of creating instability become a scar for human civilization. Arms have been used a source to quell natural rights of human. Citizens have been forced through guns to follow the whims of institutionalised power hierarchy. It can be stated that arms have an inherent magnetism to stick with the most powerful. A glimpse of history is enough to prove this thesis:

1) Killing of Indonesian people to purge communists (1965)
2) Suppression of Bengali speaking people (1971) 
3) Mass killing of Sikhs during Khalistan movement (1986)
4) Suppression during the June Fourth Incident (1989)

One last point. The exhibition is organized in one of the most busiest locations in Karachi. Roads are blocked to stop terrorists from gazing these equipments. This is causing  mammoth problems for ambulances, employees, school going students, university professors, and people from other walks of life. 

Civilized nations don't eulogize weapons. They are proud of their intellectual development and high standard of living. Karachi is exploding with mass killings. Displaying weaponry, only increases the love for warfare in the minds of the mediocre. There is nothing to extol about a gun or a missile. It will be better if the army arranges such capital-making activities in their lush-green GHQ. This will keep them satisfied, and keep millions of Karachite out of sever traffic headache.

Tuesday, October 23, 2012

A discussion on Dr. Pervez Hoodbhoy


Dr. Pervez Hoodbhoy. Source: tuftsgloballeadership.org

"The question is not whether I can bear MIT, the question is whether MIT bears me" - Noem Chomsky

Last night, I had an interesting discussion regarding the alleged dismissal of the MIT physicist Pervez Hoodbhoy from LUMS. 

The person with whom I was debating didn't consider Pervez Hoodbhoy to be an eminent academic!

I'm copying the discussion below:

Person X:
As far as Dr. Hoodbhoy is concerned, name one textbook he's written for public consumption. He has stuck his head in everything but education. And then he whines about why the society is giving in to extremism and is becoming intolerant.


Me:
How many textbook did Einstein or newton wrote? How many textbook did Jinnah wrote or Iqbal wrote?
A list of educational contribution of Mr. Hoodbhoy to his society:
>He is the founder of MASHAL publication company.. The company is publishing urdu translation of the finest books written on diverse topics including philosophy, history, and religion for more than 10 years... What more, all such books are free to download without any charge..
>He taught physics at Quaid-e-Azam university for more than 3 decades... It was during his period the world renowned Indian astronomer came to his university and stirred a love for physic never known in the history of the institute.
>Hoodbhoy is some of the only remaining voices of a liberal Pakistan.. A dream of a country where people could think rationally in an environment.. An environment for which intellectuals fly to Europe.. extremism is forcing Hindus to migrate . Sectarian killing on the rise.. Hoodbhoy voice singles out of all this mess.. The most daring thing to do in this land of pure..
>Hoodbhoy's Team developed the most comprehensive report on primary education not possibly developed in the entire history of this country.. The report was discussed across educationalist in Pakistan for weeks.. It statistically analyses educational status in every major district of Pakistan...
>In his field he is awarded the prestigious Joseph A. Burton award.. With numerous research paper published in the finest general around the world. Apart from this he has won numerous awards in his field..

==========

Hoodbhoy greatest contribution is that he is a living dissent... "if he is fired from LUMS" this means that even the finest and only 'educational society' of Pakistan couldn't cater a single dissent.. If LUMS fails to this, then every institute opened on the name of giving education will fail to allow criticism to prevail..

"The question is not whether I can bear MIT, the question is whether MIT bears me" - Noem Chomsky.

And I can bet you know this person.. Don't take this criticism personal... I think we can respect each other even after disagreeing upon minor details.

Person X:
Since you have gone into that debate, please note the following:

1) A textbook can be any book - the moment its contents are used in a classroom as a defined course of study, it becomes a textbook. Also, Dr. Iqbal and Einstein were academics, their work is highly prized in relevant domains. Jinnah was a lawyer and politician. You're living in what he did. Dr. Hoodbhoy has nothing in common with the rest of the gentlemen in this group, as instead of compiling quality books on science, he wrote books that make great afternoon reading, but no academic value.
3) I do not endorse the standards on which universities are graded, however, I do judge people on their statements to bring social change and enlightenment. By going through education himself and not sharing this gift with others is in my dictionary, a heinous crime. In my opinion, it is like having access to air and not letting others breathe.
4) Mashal publications is not Dr. Hoodbhoy alone. I would commend his efforts, but to reach a level where these books could be understood, requires a good 10 years of fundamental studies. Education works only when administered from the grass-root. 
5) Since you haven't taught, you would have difficulty in wrapping your head around the concept of localizing education. That man spent twenty years teaching from textbooks written by others. Why?
6) The term 'liberal' is a misnomer in this society. Here, they are a dogmatic group of individuals who would demand freedom for themselves while consciously denouncing the same for others. Dr. Hoodbhoy's speeches dance around islamophobia, criticizing madressas while he conveniently overlooks the fact that the liberals themselves attend grammar schools and convents while the public has no access to quality basic education. These liberals are just an opposite end of the extremist spectrum.
7) What's with the misspellings? 
8) The point of his termination was his persistence to lecture on Science and Religion, as a subject. As far as beliefs go, I'm fairly tolerant of what people believe (or don't believe in). Imposing that on others, is an other story altogether.
9) My point simply is that Dr. Hoodbhoy loves to speak on all subjects and so called liberal crowds, doesn't make him an expert on everything. Agreed, that I perhaps can't compete on numbers with the books that he has read, but despite that, it says nothing on his expertise on my religion.
10) 'Discussed across educationist'? Lol! The personal jab aside, if his plan was worth the paper it was written on, he should have had faith (oh dear, the 'f' word) and he should have made model schools based on his idea. He didn't. Now whose fault is that.
Sue. I hope you feel the same way 

Bhai point yeh hai k Einstein k baad sab sey dana aur aqalmand aadmi 'Dr' Hoodbhoy hain. Thori timing ghalat hogayee, warna Sikandar e Azam un ki zahanat k bal per dunya fatah ker leyta!

Me:
Your last comment is a good satire. A satire can only be answered by a satire.. you can read a rebuttal to your satire on my blog: kumailcraft.blogspot.com
Now, let us come to serious discussion. It is really nice that you continued on with this debate Person X. 
Who made this country, and what this country was made for is a completely different topic. We can debate on this later. According to one of Pakistan's most eminent historian dr. Mubarak Ali (RUHR PhD), history is never dictated by the whims of a single individual, rather it is the dialectical process of history, process of internal class struggle, and material conditions of that time that defines the process of history. The process of creating halos dates back to prehistoric time, and states still use "hero creation" as a process of controlling thought.

A point to point criticism:

1) A guess you are simple confused on what a textbook is. According to Meriam-Webster, a textbook is a book that contains 'a presentation of the principles of a subject'. Iqbal's poetry is good, may be it revitalizes your soul (It doesn't vitalizes me!, but you can't call it a textbook according to the basic definition of textbook. Rather, it speaks on everything under the sun!

Einstein wrote a small script on his relativity theory, now penguin classic publishes it as a part of literature without equations! You can't call it a textbook either... Likewise, Hoodbhoy also wrote 3 books, one of his famous book on orthodoxy and science (translated into 6 languages) discusses the relationship between Science and Religion. So - explicitly speaking - on the basis of text book written, all these men are equal! You can can't single out anyone by the yardstick you yourself use. Hence, we can deduce that your yardstick of 'number of textbook' is very weak measure.

2) You are making the infamous argumentative fallacy that is mostly made by religious clerics during sermons. This is known as "straw man fallacy".. Rather than answering my fundamental premise, you started of with a new premise, which is weaker than mine. Afterwards, you punch down the straw man (i.e. your self-created premise), rather than answering the fundamental argument we are debating upon. 
If we go on with your logic, criticism will cease to exist, because man has associations with millions things. Socrates beautifully sums this up.. "To escape criticism, say nothing, do nothing, and be nothing". Criticism will continue till the day people are thinking.. A society is an oligarchy if it stands upon the pillar of "respecting institutional hegemony and establishing formal structure." We need to criticise such structures rather than "respecting them".. 
Conversely, I don't know what you precisely mean by respecting something? The meaning is subjective, and therefore differs from individual to individual.

3) "By going through education himself and not sharing this gift with others is in my dictionary, a heinous crime. In my opinion, it is like having access to air and not letting others breathe."... 

Oh My God! Did you really wrote this sentence in a state of complete consciousness, He gave his whole live to teach physics in Pakistan - more than 3 decades! He left offers from international universities and chose to teach in Pakistan. He is an MIT alumina, and the civilized world considers physics as it's crown. On the other hand, I have seen teachers across my educational life who have "switched" their profession and country just to make a little more money. Who is doing a "heinous crime", Hoodbhoy or such people. With all due respect, this is the most amazingly ridiculous logic yet.

4) Of course, MASHAL publication isn't Hoodbhoy alone. One man can’t runs a whole translation house. Sir Syed was not alone when he created a translation house at Ghazipur.. He had people far more eminent than himself in the translation house, e.g. Syed Ameer Ali. The point to not is, MASHAL is the only Urdu publication company in Pakistan doing a work at par with Sir Syed work. 

Moreover, MASHAL goes one more step forward by putting all such books online for free!! Can you show me another publication house in Pakistan that officially does this? MASHAL is a tremendous asset for people who think and discuss. Its value can only be measured if you meet such people. 

"Education works only when administered from the grass-root." Totally agreed! Hoodbhoy has taught for few years in a poor government school (source: eik din Geo kay saath with Hoodbhoy). 

Don't except a man to become an Ubermann.. You cannot expect Hoodbhoy to do everything wrong here. Unfortunately, nothing properly functions correctly in this land of Pure.

5) I have already criticised your yardstick of number of textbooks in point number 1. 

Secondly, saying that I haven't taught in a university, and hence I can't speak on this topic is another argumentative fallacy called "argumentum ad hominiuem" (don't remember the spelling!!). This point has nothing to do with our fundamental premise; rather it goes on to explicate the importance of writing textbooks - something that as already been debunked.

6) Libreal extremist itself is an oxymoron developed by religious pundits. Liberalism means to 1) Respect the law 2) Consider everyone equal 3) Freedom of Speech and 4) Protection of Human right. Friedrich-Ebert-Stiftung, Pakistan is doing has done an excellent job on explaining liberalism without all those philosophical jargons. 

As I said in my first comment, Hoodbhoy is a living dissent who require utmost respect. If institutes like LUMS can’t respect him, the future for rational thinking looks oblique.. (You have read my first comment.. naqal daleel, daleel na bashad!)

7) I’m extremely poor on typing on my mobile phone... I always make misspellings while typing on my mobile keypad

8) As I mentioned earlier, his book on science and religion is translated into 6 languages. If he doesn't know about this field then why was his book translated around the world? European Univeristiesare the citadel of empirical rational analysis. They throw out rubbish on the first sight, because stupid logic only pollutes minds and ceases the process of creativity. He qualifies to teach science and religion, precisely because he know the whole subject matter. 

Additionally, Hoodbhoy is not going to teach theology, so your personal faith remains save

9) Restructuring only happens when you have raw data about the societal conditions. This is the reason reports are made. Now if you are laughing upon "Educationalists discussing this report", please tell me who should assess this report? I guess, your "LOL" is only upon you own logic.


Sunday, October 21, 2012

فنکار ڈاکٹر

فنکار. ذرائع: jalopnik.com

نہ باپ کو احساس ہوا کہ آدمی ڈاکٹر نہیں ہے، نہ بچے کو، اور شاید اب ڈاکٹر صاحب خود بھی بھول گئے ہوں گے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔

"ڈاکٹر صاحب! میری سیدھی آنکھ میں کئی دنوں سے درد ہورہا ہے، معلوم نہیں کیوں"، میرے برابر بیٹھے آٹھوئیں جماعت کے لڑکے نے ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا۔



مجھے ڈاکٹر صاحب کے کمرے کا حال معلوم نہیں کیونکہ دروازے کے دوسری طرف کا منطر میری نظر میں نہیں آرہا تھا۔ مگر کیونکہ دکان بہت چھوٹی سی تھی، اس لیے آواز صاف صاف سنائی دے رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی آواز زید حامد کی دوسری کاپی تھی، پر ہنسی مِیرا جیسی تھی، بہت ہی باریک سی۔



"بیٹا آپ کا نام کیا ہے"، ڈاکٹر صاحب نے دھیمی آواز میں دریافت کیا۔

"حزیفہ"، بچے نے جواب دیا

"ماشاء اللہ! بہت خوبصورت نام ہے"، ماشاءاللہ بلکل اس طرح بولا جیسے عامر لیاقت کی زبان سے آپ نے سنا ہوگا۔
"حزیفہ بیٹا، آپ اپنی ٹھوڑی مشین پر رکھ دیں، اور جس طرح میں کہوں ، ویسے ویسے آپ کو کرنا ہے، بسم اللہ۔۔۔۔"
"ٹھوڑی؟؟"
"یعنی chin", ڈاکٹر نے جواب دیا۔




میں دکان پر اپنی عینک کا لینس خریدنے کئلیے گیا تھا، پر مجھے ڈاکٹر صاحب کی آواز ایسی لگ رہی تھی جیسے میں نے پہلے کہی سنی ہو، یہ دکان میرے محلے میں ہی ہے، اس لیے مجھے اور شک ہوا کہ یہ کوئی جانی پہچانی آواز ہے، پر یہ آواز کس کی تھی، اس کی تصویر ابھی بھی ذہن میں نہیں آرہی تھی۔ میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انتطار کرنے کے بہانے مختلف قسم کے فریم دیکھتا رہا۔

"حزیفہ بیٹا، آپ کی دائیں آنکھ کا نمبر ۲ ہے، جب کہ بائیں آنکھ کا کچھ کم ہے"، ڈاکٹر نے کہا۔ مجھے آواز کچھ بناوٹی سی محسوس ہوئی، جیسے آدمی زبردستی اپنا لہجہ بدلنے کی کوشش کررہا ہو، جیسے ہمارے یہاں عام طور پر لوگوں کا مزاج ہے کہ مصنوعی طریقوں سے جلدی بڑا آدمی بن جائیں، یہی چیز مجھے اس لہجے میں سنائی دے رہی تھی۔




اس ہی جملے پر گفتگو ختم ہوئی اور ڈاکٹر صاحب اپنے حجرے سے باہر نکلے۔ میں حیران رہ گیا!!



وہ سفید ڈنٹونک والے دانت، وہ ہی کالی ٹوپی، وہ ہی سفید بھارتی کڑائی والی کمیز، وہ ہی بغیر فریم کا چشمہ لگائے ایک معصوم سا مجسمہ اپنے حجرے سے نکلا۔ آج سے کوئی دو سال پہلے یہ صاحب جو اپنے آپ کو "ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب" کہلوا رہے تھے، اس ہی دکان پر عینک فروخت کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اس دکان پر کوئی اور ہوا کرتے تھے، ان کے پاس واقعی تین چار ڈگریاں تھی اور ان کے پاس یہ حق بھی تھا کہ وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلوائیں۔



مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اتنی جلدی یہ صاحب بھی ڈاکٹر بن گئے، ویسے بھی ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو کہ نکلی۔



"حریفہ، آپ کو کون سا فریم چائیے؟"، ڈاکٹر نے دریافت کیا
"رے بن"
"ہی ہی ہی، انکل، یہ صحیح معنوں میں آپ کے پیسے مُکانا چارہا ہے"، ڈاکٹر نے حزیفہ کے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔




نہ باپ کو احساس ہوا کہ آدمی ڈاکٹر نہیں ہے، نہ بچے کو، اور شاید اب ڈاکٹر صاحب خود بھی بھول گئے ہوں گے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ اب تو وہ فر فر مشکل داوں کے نام بھی لے رہے تھے۔



مجھے نہیں معلوم کہ ان صاحب نے میری شکل پہنچانی یا نہیں، کیونکہ دو سال پہلے، وہ مجھے عینک بیچنے میں بری طرح فیل ہوگئے تھے۔ مجھے ان کی شکل صرف اس لیے یاد رہی کیونکہ ان کی آواز زید حامد جیسی تھی۔



میں نے اپنی عینک لی اور دکان سے باہر نکل آیا۔ 



میں نے نتیجا یہ نکالا کہ فنکاروں کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اس ملک میں ہر طرح کامیاب ہیں۔

Wednesday, October 17, 2012

پاکستان کی جدید الف بے

ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔

ملالہ کے واقعے سے ایک بات کا پتہ ضرور چلا کہ ابھی بھی اعتدال پسند آواز زندہ ہے۔ ابھی بھی یہ آواز اپنی بات منوانے کی کوشش کررہی ہے، ابھی بھی یہ آواز دریا بہ دریا، کوہ بہ کوہ امن کا پیغام آگے بڑھا رہی ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو اس ملک میں تبدیلی لائے گی اور ترقی کی ذامن بنے گی۔

لیکن جیسے کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا، ذہنی مریضوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کو اس انسانیت سوز واقعے میں بھی سازش کی 'خوشبو' آرہی۔ ان کی عجیب و غریب دلائل کے بارے میں میں پچھلی بار لکھ چکا ہوں۔ نقل دلیل دلیل نباشد۔


آج میں ایک فرضی اردو حروفِ تہجی کی کتاب کا خاکہ پیش کررہا ہوں۔ یہ فرضی کتاب ذہنی مریضوں کیلئے ہے۔ اس کتاب کے کئی الفاظ آپ روز ٹی-وی، اخبار، اس-ایم-اس، انٹرنیٹ، وغیرہ پر پڑھ چکے ہیں۔ یہ الفاظ بہت تیزی کے ساتھ اعتدال پسند سماج کا حصہ بن رہے ہیں، اس لیے اب وقت آکیا ہے کہ ان کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے۔



مریضوں کی اردو


ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ یہ بلکل ویسی ہی بات ہے جیسے کہ عربی میں "پ" نہیں ہوتا اور فارسی میں "ڈ" نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔

Sunday, October 14, 2012

ایک نہتی لڑکی سے ڈر گئے

ملالہ یوسف زائی۔ ذرایع: thenews.com.pk

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔


ملالہ یوسف زائی پر ہونے والا حملہ، پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کا سب سے تاریک باب ہے۔ ایک ۱۴ سالہ لڑکی کو سر اور گردن میں صرف اس لیے گولی ماری گئی کیونکہ وہ اپنے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کررہی تھی۔ وہ اعتدال پسندی کی تعلیم دے رہی تھی، اور ایک روشن پاکستان کا خواب دیکھا رہی تھی۔


لیکن کہا جاتا ہے کہ تاریکی میں بھی روشنی کی معمولی سے کرن ہوتی ہے۔ یہ کرن تاریکی پر حاوی ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار لوگو اسلامی انتہاپسند تنظیم طالبان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی گروپوں نے عوامی اجتماعوں میں لوگوں کو اس واقعہ کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد اس واقعے کو نہ صرف انسانیت سوز کہتی ہے بلکہ اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا شاخسانہ گردانتی ہے۔ اس طبقے میں میڈل کلاس لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے جو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور بعد از آن جامعہ بھی۔ ملالہ کے واقعے نے پاکستان کی مہذب آبادی کے دل ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انتہاہ پسندوں کے نظریوں میں جان ختم ہوتی جارہی ہے، کیونکہ اگر یہ نظریہ مصبوط ہوتا ہے تو بچیوں اور بچوں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی اسکولوں کو تباہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہے دہشت کے ذریعے اپنی بات منوانے کی۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ نظریہ طاقت کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ نظریہ طاقت کو رزم گاہ میں استعمال کرتا ہے، ناکہ معصوموں کو خوف و ہراس میں رکھنے کیلئے۔


پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس جرم کی پرزور مذمت کی ہے۔ یہ ایک خوش آئین بات ہے۔ مگر ایک بیمار ذہنیت ایسی بھی ہے جس کو اس واقعے میں بھی کسی سازش کی 'خوشبو' آتی ہے۔ یہ طبقے ایک ایسی خودفریبی کی کھائی میں پھنسا ہوا ہے کہ جس سے نکلنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی کھائی ہے کہ جو خود ان کو اگلنا چاہتی ہے، پر یہ پھر بھی اس سے چپکے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر چیز ایک سازشی تھیوری کی وجہ سے ہورہا ہے، اور یہ لوگ اس تھیوری کو سمجھ گئے ہیں۔ جو لوگ اس تھیوری کو نہیں سمجھنا چاہتے، ان کیلئے یہ طبقہ 'غدار'،  'لاعلم'، اور 'ایجنٹ' کی پرانی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تالاب کا مینڈک دنیا کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔


اس کھائی میں پھنسے بیماروں کا فلسفہ کچھ یوں ہے: "ملالہ پر حملہ ایک امریکی سازش ہے۔ یہ حملہ طالبان نے نہیں کیا، بلکہ یہود و نصاری کی پاکستان اور اسلام کے خلاف چال ہے۔"


فلسفی بنے کی کوشش میں یہ ذہنی بیمار الٹی سیدھی چیزوں کی آپس میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتے:
۱) "ملالہ پر حملے کو بنیاد بنا کر امریکہ پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے"
۲) "امریکہ نے ڈرون کے حملے کو پسِ پوشت ڈال دیا"
۳) "قوم کی بیٹی آفیہ صدیقہ کیوں یاد نہیں آتی؟"
۴) "یہودی گستاخی کے مسئلے کو پسِ پوشت ڈالنا چاہتے ہیں"


آپ کو اس ہی قسم کی کئی باتیں پڑھنے کو ملیں گی۔ اس پر ہنسا جائے یہ رویا جائے، اس کا فیصلہ پڑھنے والا خود کرسکتا ہے۔ میں تو بس اتنا کہوں گا کہ:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کوصاحبِ کردار ہونا چاہیے

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔

کیا واقعی ملالہ ہی ذمہ دار تھی امریکی ڈرون حملوں کی کہ ڈرون حملوں کا بدلہ ایک بچی سے لیا جائے؟ اگر ملالہ نے اوباما کو بڑا آدمی کہا تو کیا اس کو اپنا ہیرو چنے کی آزادی نہیں؟ کیا ضروری ہے کہ وہ بچی بھی ان ہی کو اپنا ہیرو سمجھے جن کو یہ دہشتگرد اپنا ہیرو سمجھتے ہیں؟

جب طالبان خود حملے کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں، تو یہودی بیچ میں کہاں سے آگئے۔ ان کا سرکاری نمائندہ ٹی-وی پر 
فخریہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کررہا ہے، اور اس بات کا اعلان بھی کررہا ہے کہ ایسے حملے اور ہوں گے۔

اور سب سے عجیب بات امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ کی ہے۔ جس کا ہتھیار ہم خریدتے ہیں، جس کی امداد ہم لیتے ہیں، اور جو ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتا ہے، کیا واقعی اسکو ہم سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے؟ وہ صرف امداد بند کردے تو یہ ملک خود بخود ہی کام کرنا چھوڑ دے گا۔ مالک کجا غلام کجا!

قوم کی بیٹی ملالہ ہے، جس نے اپنی زمین نہیں چھوڑی ، اور اپنی جان پر کھیل کر علم کی شمع منور کرنے کی کوشش کی۔ ان ذہنی بیماروں کو علم کی اہمیت کا کیا اندازہ۔ ملالہ نے ہزاروں بچیوں کو زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا حوصلہ فراہم کیا، اس نے دہشت کے خلاف آواز اٹھائی جو آج تک سیاستدان بھی آٹھانے سے ڈرتے ہیں۔


اگرچہ ان بیماروں میں آپ کو ڈاکٹر، انجئنیز، مذہبی پیسے سے تعلق رکھنے والے، معیشت سے تعلق رکھنے والے، اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے بھی نظر آئیں گے، پر یہ اس قوم کی سب سے بڑی بیماری ہیں۔ یہ لوگ نہ سوچ سکتے ہیں، اور نہ سوچنا چاہتے ہیں، اور شاید نہ کبھی سوچ پائیں گے۔ ان پر بلھے شاہ کا یہ کلام ججتا ہے: پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی۔ باقی یہ بات بھی درست ہے کہ ذہنی بیمار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے، چاہے پڑھا لکھا ہو یا غیر پڑھا لکھا۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں انتہاہ پسند جماعتوں، مثلاً، طالبان، کے خلاف عوام کو بیدار کیا جائے۔ ملالہ سے پہلے یہ گروہ کئی اسکول تباہ کرچکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ آج ہی ڈیرہ آدم خیل میں دہشگردی کے واقعہ میں ۱۶ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
 نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
 یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
 نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

Sunday, October 7, 2012

کرکٹ اور میں

ایک کرکٹ میچ کا منظر۔ ذرائع: davidsanger.com


کھیل عام طور پر قومی پرستی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ ان جذبات سے فرد کا قوم کے ساتھ چند لمحوں کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے، اور وہ اس رشتے کی وجہ سے اپنے اوپر ہونے والی تکلیف کو بھی بھول جاتا ہے۔



عجیب اتفاق کی بات ہے کہ میں نے ایک بھی کرکٹ میچ نہیں دیکھا، پر میری کرکٹ پر معلومات اتنی ہی تھی جتنی اسکی جس نے سارے میچز مکمل انہماک کے ساتھ دیکھے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ پاکستانی اخباروں میں شہ سرخی پر ان کرکٹ میچز کی خبر ہوتی تھی۔ اگرچہ ملک میں فرقہ وارنہ فسادات روز کا معمول ہیں، ہندو ملک چھوڑ کر بھارت جارہے ہیں، چرچ جلایا جارہا ہے، ۱۱ سالہ بچی ہر توہین کے مقدمات چل رہے ہیں، بھتہ خوری عام ہے، ٹارگٹ کلنگ کا بھول بالا ہے، لیکن ان سب 'چھوٹی خبروں' کے باوجود اہم خبر یہی تھی کہ آج پاکستان فلانے ملک سے کھیلے گا، آج فلانے ملک کو ہرا دیا، آج فلانے سے جیت گیا، علی ہذا القیاس۔

اس کے علاوہ دوسرا ذریعہ معلومات فیس بک تھا۔ اس پر بھی مزے مزے کے تبصرے پڑھنے کو ملے اور کرکٹ کی بہت ساری معلومات حاصل ہوئی۔ بہت سارے تبصروں میں بھارت کا مزاخ بنایا گیا تھا، کئی ایک میں پاکستان کو کرکٹ کا بادشاہ قرار دینے کی کوشش صاف نظر آرہی تھی، کچھ ایسے بھی تھے جن کو پاکستان کی جیت سے زیادہ بھارت کی ہار پر خوشی تھی۔ ہر آدمی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے!


میرا خیال یہ ہے کہ کھیل کو کھیل ہی سمجھنا چاہیے۔ اصل میں کل ۲۲ لڑکے کھیل رہے ہیں۔ اب اس کو ملکوں کا مسئلہ بنانا کوئی عقل مندی کی بات نہیں۔ کوئی پیلی کمیز پہنا ہوا ہے، تو کوئی ہری یا نیلی۔ کمیزوں کے رنگوں کا ہی تو فرق ہے ان لڑکوں میں! اصل چیز تو کھیل ہے، اور میری رائے یہ ہے کہ برصغیر کے تمام ممالک کو ایک ٹیم بن کر کھیلنا چاہیے۔ کیوں نا تین پاکستانی کھلاڑی بھارتی ٹیم میں چلے جائیں اور تین ہندیستانی کھلاڑی پاکستانی ٹیم میں آجائیں۔ اس سے دونوں برادر ملکوں میں محبت بھی بڑھے گی اور کھیل کو کھیل کی طرح کھیلا جائے گا، نہ کہ دو ملکوں کے درمیان جنگ کی طرح۔

ویسے بھی یہ ۲۲ لڑکے کسی ملک کے لیے تو نہیں کھیل رہے ہوتے۔ اگر ملٹی نیشنل کمپنی ان کو اسپونسر نہ کریں تو یہ لڑکے کرکٹ کھیلنا تو درکنار، کرکٹ کا بلا بھی نہیں خرید سکتے۔ کھیل حقیقی معنوں میں ایک بہت لمبا اشتہار ہوتا ہے۔ اس اشتہاری موہم میں آپ کو طرح طرح کی کمپنیاں نظر آئےگی۔ اور یہی اس پورے کھیل کی جان ہوتی ہے کہ کتنی کمپنیوں نے کھیل کو اسپونسر کیا ہے۔ اب رہا سوال شاہد خان آفریدی کا یا دھونی کا تو ان میں فرق صرف کمیز کے رنگ کا ہے، باقی طور طریقے، زبان، کرکٹ اسٹائل، وغیرہ سب ایک ہی ہے۔



کھیل عام طور پر قومی پرستی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ ان جذبات سے فرد کا قوم کے ساتھ چند لمحوں کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے، اور وہ اس رشتے کی وجہ سے اپنے اوپر ہونے والی تکلیف کو بھی بھول جاتا ہے۔ مثلاً، میرے محلے میں لڑکوں نے مل کر ایک بڑی سی اسکرین سڑک پر سجائی تھی، جس پر پاکستان کا میچ سب لوگ مل کردیکھ رہے تھے۔ جب ۹:۰۰ بجے تو ایک لڑکا بولا کہ "شکر اللہ کا کہ آج لوڈ شیڈینگ نہیں ہوگی!"۔ ویسے اگر کوئی میچ نہ ہوتا تو اس لڑکے کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ برآمد ہوتے، "اس ملک میں لائٹ ہے نہ پانی"۔ لیکن اس کرکٹ میچ کی وجہ سے اس پر ایک دوسری قسم کی کیفیت تاری ہوجاتی ہے، اور وہ اپنے بنیادی حق کو ثانی درجے میں شمار کرنے لگتا ہے۔ اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو اس کھیل میں پاکستان کے جیتنے یا ہارنے سے اس کی ذاتی رندگی پرکوئی اثر نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی وہ اس کھیل کو مکمل انہماک سے دیکھتا رہا۔



میں بس میں سفر کررہا تھا تو ایک صاحب نے فرمایا، "پاکستان نے جان بوج کر انڈیا کو جیت دی، کیونکہ اگر پاکستان جیت جاتا تو وہاں موجود مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میں آجاتیں"۔ یہ اس چند لمحوں کی قوم پرستی کی انتہائی شکل ہے!

اب کیونکہ پاکستان کھیل سے باہر ہوگیا ہے، اس لیے قوم پرستی کا سحر بھی کچھ کم ہوا ہے۔ اب وہ ۱۱ لڑکے کسی اور اشتہار میں نظر آئیں گے یا کسی اور نجی کمپنی کے لیے کرکٹ کھیلتے ہوئے، جنکہ عام شہری اگلے کرکٹ میچ کا انتظار ہی کرتا رہے گا۔


Tuesday, October 2, 2012

بلاگ اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ

بڑا بھائی آپ کو دیکھ رہا ہے۔ ذرائع:  آزاد انسان

لیکن پھر میں نے کہا، "چھڈو یار! اسامہ کا پتہ نہیں تھا، میرے بلاگ کا کس کو پتہ ہوگا"۔


پچھلے مہینے بلاگ پوسٹ کی تعداد صرف دو تھی۔ اس کی وجہ مضوعات کی کمی یا کاہلی نہیں تھی بلکہ ریاست کی طرف سے یوٹیوب پر لگائی پابندی تھی۔

اگر چہ پی-ٹی-اے نے پابندی صرف یوٹیوب پر لگی تھی، پر اس کے نتیجے میں اور بہت ساری اہم ویب سائٹ بھی بند ہوگئی تھیں۔ مثلاً، کئی لوگ گوگل ٹرانسلیٹر استعمال نہیں کر پارہے تھے، لوگوں کو اُن ویب سائٹ پر بھی دقت کا سامنا تھا جس پر گوگل کی کوئی نہ کوئی چیز استعمال ہوتی ہے۔ اس ہی وجہ سے میرا بلاگ بھی نہیں کھل رہا تھا۔


کئی دنوں تک تو مجھے لگا کہ میرا بلاگ بھی بند ہوگیا ہے۔ شاید جارج آرول کی شہرہ آفاق تصنیف 'بڑا بھائی' کا مجھ پر گہرا اثر ہوا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ شاید ریاستی ادارے میرے بلاگ کو بند کرنا چاہتے تھے، شاید وہ ہر وقت مجھ پر نظر رکھ رہے ہوں، شاید خفیہ ادارے میرا بلاگ پڑھ رہے ہوں، شاید صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان کی گستاخی سرزد ہوئی ہو، شاید عزت مآب چیف جسٹس کو کوئی بات اچھی نہ لگی ہو، شاید فوجی کمانڈر نے اپنے آقاوں کو میرے بلاگ کی شکایت کردی ہو۔



لیکن پھر میں نے کہا، "چھڈو یار! اسامہ کا پتہ نہیں تھا، میرے بلاگ کا کس کو پتہ ہوگا۔" کروڑوں لوگوں میں سے ایک گم نام آواز کی کیا حیثیت۔ ویسے بھی آواز کی اہمیت ہمارے معاشرے میں ہے بھی کتنی؟ بقول افتخار عارف:۔

جب میر و مرزا کے سخن رائیگاں گئے
اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

لیکن، میرا تو یہ ماننا ہے کہ جدید تاریخ میں شور وہ واحد آلہ ہے جو تبدیلی کا باعث بنا ہے۔ یہ شور ہمیں روزا پارکر کی سیاہ فام امریکیوں کی جنگ کی صورت میں نظر آتا ہے، یہ ہمیں امیلین گولڈن کی شکل میں نظر آتا ہے، شور کے ذریعہ مہاہ آتما گاندی نے انگریزوں کا ناک میں دم کردیا تھا، شور کے ذریعے عرب نوجوانوں نے تیس تیس سال سے تخت پر سجھے آمروں کو زمیں بوس کیا، شور ہی نے مارٹن لوتھر کینگ کو امریکہ کا سب سے عظیم سماجی کارکن بنایا، بھٹو کا بھی واحد آلہ شور ہی تھا، ان کے پاس بندوق نہیں تھی جس سے سیاست پر قبضہ کیا جاسکے۔

مارکس جس طبقاتی کشمکش کی بات کرتا ہے، وہ بھی تو ایک طرح کا شور ہے۔ اس کشمکش میں طرح طرح کے خیالات ٹکراتے ہیں جو کہ تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اس ہی طرح کی رائے ہسپانی فلسفی مائگل دے اونامونو کی بھی ہے جو کہتا ہے کہ "میرا کام حلچل پیدا کرنا ہے، میں ڈبل روٹی نہیں بیچتا، میں خمیر بیچتا ہوں"۔

میں سمجھتا ہوں کہ میرے بلاگ کا ایک مقصد شور مچانا بھی ہے، پر ایسا شور جس کی بنیاد ٹھوس دلیل اور منطق پر کھڑی ہو۔ ایسا شور جو دلیل کے بغیر ہوتا ہے اس کا انجام صرف تمسخر اور ذاتی یا سماجی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسا شور تباہی کا باعث بنتا ہے اور سماج کو پیچھے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس شور کی علامت وہ لوگ ہیں جو عوامی حکومتوں کا مذاق بناتے ہیں، جو مذہب کو سیاسی معاملات میں استعمال کرتے ہیں، جو چیخ چیخ کر تاریج کو مسخ کرتے ہیں، جو گلی بازاروں میں ایٹم بم کو قومی اساسہ قرار دیتے ہیں، یہ شور سماج کی تباہی کی دلیل ہے۔

شور زندگی کی علامت ہے،اور میرے بلاگ کی بھی۔ شور تومچتا رہے گا، چاہے "بڑے بھائی" کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے۔