Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Sunday, December 16, 2012

سازشی نظریات - حصہ دوم

البرٹ آئینستائن

سازشی نظریات بنیادی طور پر ذہنی بیماروں کی ایجاد ہوتے ہیں، جو جنتِ الحمقا میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اُس میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جس سماج میں بہتری نظر نہ آرہی وہ، وہاں ایسے سازشی لوگ برساتی کیڑوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور وقتی سکون کا باعث بنتے ہیں۔

پچھلے بلاگ میں میں نے سازشی نظریے کی پہلی قسم کے بارے میں لکھا تھا۔ جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ کس طرح خیالات اور الفاظ کو سادہ کرکہ چیزوں کی حقیقت کو تبدیل کردیا جاتا ہے، اور کس طرح تشریحات کو ریاستی مفادات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسی سازشیں عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں نظر آتی ہیں، اور عام آدمی تک کتابوں یا لیکچروں کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ ان کتابوں کی وجہ سے ایک خاص قسم کا "مائنڈ سیٹ" (mindset) پیدا ہوتا ہے، جو ہر خیال کو سادہ تر کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ یہ طبقہ ہر واقعے اور خیال کیلئے ایک لفظ یا کوئی چھوٹا سا فقرا ترتیب دیتا ہے جو ہر موقعے پر اپنا جادو دکھاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات سمجھ میں آنے لگی ہے، ہر چیز اپنے اصل مقام پر ہے، اور بس کچھ ہی دیر میں مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی شروع ہو جاتی ہے۔

اس دوسری قسم کے سازشی طریقے کا نام میں نے "رٹو طوطا" رکھا ہے، کیونکہ ہر مسئلہ کیلئے ان کے پاس صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے جس کو وہ بار بار دھراتے چلے جاتے ہیں۔

رٹو طوطا

رٹو طوطا نظریہ آپ کو عام لوگوں میں سننے کو زیادہ ملے گا۔ یہ عام لوگ ہم میں سے ہی ہوتے ہیں، جو دانشوروں، مولویوں، میڈیا اور لیکچروں کی وجہ سے ذہنی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کا نتیجا یہ ہوتا ہے کہ قیاص کرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے، اور اس مراحلے پر وہ دانشواروں یا خطیب کی بات میں استعمال ہونے والے سب سے اہم یا مقبول لفظ کو ہر سوال کا جواب سمجھتے ہیں۔ اور اس ہی لفظ کو ہر مسئلے کی دلیل یا سبب مانتے ہیں۔

اس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثلاً، مندرجہ ذیل گفتگو:


۹/۱۱ کا واقعے کس نے کیا؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
مہران بیس پر جملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
جی-ایج-کیو پر حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پاکستان میں دہشت گردی؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
مسلمانوں کی علمی ابتری؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
برما و غزہ میں حالات؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
افغانستان میں شیعہ اور غیز-پختونوں کا قتل؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
عراق میں روز حملے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پولیو کے قطرے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
ڈرون حملے؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
بھارت کو پسندیدہ ریاست قرار دینا؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
سقوطِ ڈھاکہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
ملال پر حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
پشاور میں حملہ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"
عائشہ عمر کی ٹی-شرٹ؟
"یہود و نصاری یا ہنود کی سازش ہے"


ایک اور مثال:


پاکستان میں کرپشن؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں بے روز گاری؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں دہشت گردی؟
"زردادی کی وجہ سے"
بجلی کی کمی؟
"زردادی کی وجہ سے"
آٹا مہنگا ہو گیا؟
"زردادی کی وجہ سے"
سی-این-جی کی کمی؟
"زردادی کی وجہ سے"
پاکستان میں بدحالی؟
"زردادی کی وجہ سے"


نظریے کا ایک مقصد مستقبل کا خاکہ تراشنا بھی ہوتا ہے، اس لئے یہ سازشی نظریہ مستقبل پر بھی طبع آزمائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سازشی نظریہ کے اندر سے یا تو عمران خان پیدا ہوتا ہے یا کوئی جنت جیسی اسلامی ریاست۔



تبدیلی کا نشان؟
"صرف عمران خان"
کرپشن سے پاک پاکستان؟
"صرف عمران خان"
دہشت گردی سے پاک وطن؟
"صرف عمران خان"
روز گار سب کے لئے؟
"صرف عمران خان"



جب کوئی سماج دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے مسائل کا تعین بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

ضمناً، وہ حقیقی عوامل جو ہمارے سماج کی تباہی کی اصل وجہ ہیں، ان کو اپنا کام کرنے کی اور زیادہ مہلت مل جاتی ہے اور وہ اور زیادہ تباہی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے عام آدمی اس سازشی نظریے میں اور زیادہ ڈوب جاتا ہے کیونکہ وہ حقیقت جاننے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ ذہنی ابتری کا ایسا کنواں ہے جس میں ہر دوسرا قدم اور زیادہ ابتری کی طرف لے جاتا ہے۔

"رٹو طوطا" سازشی نظریے کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہر چیز ثابت کردیتا ہے۔ 

مشہور جرمن فلسفی کارل پوپر نے نظریے کی طاقت جانچنے کیلئے ایک پیمانا ایجاد کیا ہے جسکو اس نے 'فالسی فیکیشن' (falsification) کا نام دیا تھا۔ پوپر کے مطابق کسی نظریے کے صحیح ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی واقعے کے واقعہ نہ ہونے کو ثابت کرے۔

مثلاً، اگر ہم کسی ماہر نفسیات سے پوچھیں ہیں کہ "ایک انسان دوسرے انسان کو- جو کہ سمندر میں ڈوبنے والا ہے- اس کی جان بچانے کیلئے کودے گا یا نہیں؟"

 اگر وہ آدمی کود جاتا ہے تو ماہر نفسیات بولیں گے کہ " اس کا لاشعور اس کے شعور پر حاوی ہوگیا تھا"(repression)۔ اگر وہ نہیں کودتا تو اُن کا جواب ہو گا کہ "اس کی کوشش سماج میں مثبت طور پر تبدیل نہ ہوسکی۔" (sublimation).

اس ہی وجہ سے پوپر نفسیات کو سائنسی نظریہ نہیں بولتا۔

اس ہی نسبت سے سازشی نظریات کو 'سائنسی' کہنا ناممکن ہے۔ اگر ان سازشی لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیا "کیا طالبان پاکستان کے ایٹم بم تک پہنچ سکتے ہیں؟" جو "ہاں" بولیں گے۔ وہ کہیں گے کہ، "اصل طالبان پاکستان کے دوست ہیں، باقی یہود کی سازش۔" جو نہیں بولیں گے، ان کی رائے ہوگی، "یہود و نصاری کبھی ہمارے اسلامی بم کےقریب نہیں آسکتے"۔اس لئے ان کی تھیوری سے سب کچھ ثابت ہو رہا ہے، اس لئے حقیقتاً کچھ بھی ثابت نہیں ہورہا۔

تیسری اہم بات اس "رٹو طوطا" نظریے پر یہ ہے کہ اس پر سائنسی تنقید ناممکن ہے۔ یہ لوگ ذرائع ابلاغ کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ شاید ان کو معلومات الہام ہوتی ہیں، یا کوئی فرشتہ ان کو آکر بتاتا ہے۔ چند سازشی لوگ تو اپنی تھیوری پر بلکل ویسے ہی یقین کرتے ہیں جیسے علمِ غیب پر یقین۔ یہ لوگ فرماتے ہیں کہ جس طرح مذہب میں ہر سوال کا جواب ممکن نہیں، اس ہی طرح ان کے سازشی نظریہ میں خرابی کو صرف ایک وقتی مسئلہ سمجھا جائے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گا!

کمال کی بات یہ ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ کی خبر ان کے حق میں ہو تو یہ لوگ آنکھ بند کرکہ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔

سازشی نظریات بنیادی طور پر ذہنی بیماروں کی ایجاد ہوتے ہیں، جو جنتِ الحمقا میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جس سماج میں بہتری نظر نہ آرہی وہ، وہاں ایسے سازشی لوگ برساتی کیڑوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور وقتی سکون کا باعث بنتے ہیں۔

Friday, December 14, 2012

سازشی نظریات - حصہ اول

البرٹ آئینستائن

اگر کوئی شخص سورج کو تارا بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ اسے چولھا بولنا شروع کردے تو سنے والے کو نہ سورج سمجھ آئے گا، اور نہ ہی چولھا۔

جرمن - امریکی ماہرِ طبیعات البرٹ آئینستائن نے کہا تھا: "چیزوں کو سادہ کرو، لیکن بلکل ہی سادہ نہ کردو"۔ اس کا مطلب یہ تھا کی خیالات کو آسان لفظوں میں بیان کرنا چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خیال کو آسان بنانے کیلئے خیال ہی کو تور مروڑ دیا جائے۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ اصل خیال بھی متروک ہو جاتا ہے، اور جس خیال کو ہم حقیقی سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ صرف ہمارا ذہنی فریب ہوتا ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص سورج کو تارا بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ اسے چولھا بولنا شروع کردے تو سنے والے کو نہ سورج سمجھ آئے گا، اور نہ ہی چولھا۔


دوسرا پہلوں اس قول کا یہ بھی ہے کہ اگر کوئی نظریہ ایک یا دو لفظوں میں ہر سوال کا جواب دے رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظریہ "بہت زیادہ سادہ" ہوگیا ہے۔ اب یہ نظریہ سورج کو چولھا اور چولے کو سورج بولنا شروع ہو جائے گا۔ یہ اس ہی طرح ہے جس طرح بچپن میں میرے پاس ایک "سُپر مین" تھا جس کے سینے پر ایک بٹن لگا ہوا تھا۔ میں جب بھی بٹن دباتا تو اس میں سے آواز آتی:

"آئی آیم فرام کریمٹان! سُپر مین!" (I'm from Krypton! Super Man!s)


Wednesday, November 14, 2012

عطاء اللہ کا معاشرہ

ہمارے سماج کی کیفیت۔ ذرائع: businessweek.com

عطاء اللہ بار بار قلم اٹھاتا اور پھر رکھ دیتا۔ کاغذ پر کچھ نشانات بناتا اور پھر مٹا دیتا۔ ریاضی کا طالبِ علم تھا، پر ریاضی کے علاوہ بہت ساری چیزیں اس کے ذہن میں شورش برپا کرتی تھیں۔ سقراط کے بقول انسان ایک سیاسی جانور ہے ۔ آئنسٹائن کا کہنا ہے کہ انسان کو ریاضی اور سیاست کے درمیان اپنا وقت گزارنا چاہیے اور اپنے وقت کا بہترین امتزاج ڈھنڈنا چاہیے۔ پر عطاء اللہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کرنے سے قاصر تھا۔


سائنس اور ریاضی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہ علم امن اور خوشحالی کے دور میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کی شروعات میں جرمنی اور اگلستان کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ جرمنی کیمبرج اور آکسفورڈ پر حملہ نہیں کرے گا اور جواباً انگلستان جامعہِ ہیمبرگ (Hamburg) کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ دونوں ملکوں نے اپنے عہد پر عمل کیا اور دورانِ جنگ بھی علم کو پنپنے کا موقع دیا۔



مگر عطاء اللہ کاملک نہ تو جرمنی تھا اور نہ ہی انگلستان۔ عطاءاللہ پاکستان کا شہری تھا، اور اُسے ہر لمحے کسی نہ کسی قسم کے عذاب سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ عذاب ذہنی کوفت سے شروع ہوتا تھا اور پھر بھنور کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ مسلسل ایک ہی چیز کے بارے میں سوچنے سے اس میں نفسیاتی مرض بھی پیدا ہوگیا تھا۔ عطاء اللہ کو اب اپنا نام بھی پسند نہیں آرہا تھا۔ ہم کلامی کرتے ہوئے بولا، "ملالہ کے قاتل کا نام بھی یہی تھا، اور میرا بھی یہی ہے؟ دنیا میں اربوں نام ہیں پھر ایسا اتفاق صرف میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے؟ کیا مُرفی کا قانون صرف مجھ پر ہی لاگو ہوتا ہے؟ ایسی بدقسمتی صرف میرے ساتھ ہی کیوں؟" ۔ عطاء اللہ یہ جانتا تھا کہ ناموں سے کوئی فرق نہیں ہوتا، پر اس کو اپنے نام سے ملالہ کا قاتل یاد آتا تھا۔



قاتل کا یاد آنا تو ایسی چیز تھی، جس کو عطاءاللہ بھول سکتا تھا۔ پر آئے دن ہونے والی قتل و غارت گری، اس کے ذہن میں تازہ تھی۔ وہ کسی طرح اس بچے کو بھول نہیں سکتا تھا جس کو احمدی ہونے پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ اس لڑکی کا ساتھ نہ دینے پر اپنی شرمندگی کیسے بھولتا جو اپنے علاقے میں عورتوں کی بہتری کیلئے کام کررہی تھی۔ کل ہی اس عورت کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ عطاء اللہ کو اپنا دوست علی مہدی بہت یاد آرہا تھا، جس کے ساتھ اس نے پچھلے سال بلوچستان میں جشنِ نوروز منایا تھا۔ اس کی تین بیٹیوں کے سر پر اب کوئی باپ نہیں رہا تھا۔ علی مہدی کو مذہب کے نام پر مار دیا گیا اور لاتعداد اور علی مہدی مار دیے گئے۔ 



عطاء اللہ کو اپنی پیاری دوست امریتہ کماری بہت یاد آرہی تھی۔ کچھ ماہ قبل اس کی اور امریتہ کی ملاقات ایک بین الاقوامی طبعیاتی نمائش میں ہوئی تھی. امریتہ کو یہ بات جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ عطاء اللہ اس کا ہم وطن ہے۔ امریتہ نے عطاء اللہ کو ڈاکٹر سلام کی تصویر تحفے کے طور پر پیش کی تھی جس کے پیچھے اس نے کارل سیگن (Carl Sagan) کا قول اپنے قلم سے لکھا تھا: "کسی چیز کو سمجھنا دنیا کا سب سے خوبصورت عمل ہے۔" ڈاکٹر سلام کی وہ تصویر اس کی میز پر ہمشہ رکھی رہتی تھی اور وہ قول تو عطاءاللہ کی زندگی کا مقصد تھا۔ لیکن امریتہ سے بات کیے ہوئے بھی ایک سال گز گیا تھا۔ معلوم نہیں امریتہ کہاں ہوگی؟ کیا اس کا بھی مذہب کسی نے زبردستی بدل دیا ہے یا وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھارت چلی گئی ہے۔ اگر وہ اس ملک میں موجود بھی ہے تو کیا اُسے سوچنے کی آزادی موجود ہے؟ کیا امریتہ پاکستان، جو اس کا اپنا ملک ہے، زیادہ خوشی کے ساتھ اپنا کام کرسکتی ہے یہ دیارِ غیر اس کیلئے زیادہ مفید اور پرامن ہے؟ لیکن عطاء اللہ کے ذہن میں ایک اور خیال بھی تھا کہ شاید اس نے سائنس چھوڑ کر اپنے اہلِ مذہب کی خدمت شروع کردی ہو۔ کیونکہ اگر وجود ہی محفوظ نہیں تو کہاں کی سائنس اور کہاں کی ریاضی؟



عطاء اللہ جولیئس کو تو بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ جولئیس کا ہوٹل اس کے گھر سے پیڈل کے رستے پر تھا۔ اس کا چائے کا چھوٹا سا ہوٹل تھا جس میں بی بی مریم کی ایک تصویر صدر دروازے کے اوپر مزین تھی۔ عطاء اللہ کو وہ تصویر ہمیشہ دل فریب محسوس ہوتی تھی اور تصویر دیکھنے پر ہر بار اس پر ایک نئی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ مہینے بھر پہلے جولئیس گرجا گھر میں اپنی عبادت میں مصروف تھا جب اس پر حملہ ہوگیا۔ اس حملے میں وہ بہت زخمی ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ آگر اس نے اپنے ہوٹل پر سے بی بی مریم کی تصویر نہیں ہٹائی تو اگلی بار اس کا ہوٹل نہیں بچے گا۔ جولئیس کے دو چھّوٹے بیٹے تھے جن کا وہ واحد کفیل تھا۔ تصویر ہٹانا ہی زندہ رہنے کا واحد راستہ تھا۔ تصویر ہٹانے کے بعد جولیئس سہم سہم سا گیا تھا، اس کی چائے میں اب پہلی جیسی بات نہیں رہی تھی، رفتہ رفتہ چائے کی کولیٹی میں بھی فرق پڑنے لگا اور لوگوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اور پھر ایسا وقت آیا کہ جولئیس کو شہر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔



کبھی کبھی عطاء اللہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر اس کے ملک میں یہودی ہوتے تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا؟ کیا ان کاحال بھی رحمان بابا کے مزار کی طرح کردیاجاتا؟ خدا کا شکر ہے کہ یہاں کوئی یہودی نہیں، ورنہ ہٹلر بھی شرما جاتا۔



علی مہدی، امریتہ کماری، اور جولئیس کی یادیں عطاء اللہ کو کام کرنے سے روکتی ہیں۔ وہ جب بھی کام کرنا شروع کرتا ہے تو علی کے لطیفے، امریتہ کی ہنسی اور جولئیس کی چائے یاد آجاتی ہے۔



عطاء اللہ خیال کی وادیوں سے پھر حقیقت کی طرف آیا اور کاغذ پر ریاضی کرنا شروع ہوگیا۔ ابھی اس نے سوال ہی لکھا تھا کہ اچانک سے ایک ذور دار آواز آئی۔



"اللہ خیر کرے!"، عطاء اللہ بولا



اس نے اپنی کھڑکی کھولی تو لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ایک ہی سمت میں بھاگتا نظر آیا۔ وہ فوراً ریڈیو کی طرف لپکا اور خبر سنے کے بعد دوبارہ سکتے میں چلا گیا:



"مارکیٹ میں خودکُش حملہ، ۲۰ افراد جاں بحق۔۔۔۔۔۔"

Wednesday, October 17, 2012

پاکستان کی جدید الف بے

ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔

ملالہ کے واقعے سے ایک بات کا پتہ ضرور چلا کہ ابھی بھی اعتدال پسند آواز زندہ ہے۔ ابھی بھی یہ آواز اپنی بات منوانے کی کوشش کررہی ہے، ابھی بھی یہ آواز دریا بہ دریا، کوہ بہ کوہ امن کا پیغام آگے بڑھا رہی ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو اس ملک میں تبدیلی لائے گی اور ترقی کی ذامن بنے گی۔

لیکن جیسے کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا، ذہنی مریضوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کو اس انسانیت سوز واقعے میں بھی سازش کی 'خوشبو' آرہی۔ ان کی عجیب و غریب دلائل کے بارے میں میں پچھلی بار لکھ چکا ہوں۔ نقل دلیل دلیل نباشد۔


آج میں ایک فرضی اردو حروفِ تہجی کی کتاب کا خاکہ پیش کررہا ہوں۔ یہ فرضی کتاب ذہنی مریضوں کیلئے ہے۔ اس کتاب کے کئی الفاظ آپ روز ٹی-وی، اخبار، اس-ایم-اس، انٹرنیٹ، وغیرہ پر پڑھ چکے ہیں۔ یہ الفاظ بہت تیزی کے ساتھ اعتدال پسند سماج کا حصہ بن رہے ہیں، اس لیے اب وقت آکیا ہے کہ ان کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے۔



مریضوں کی اردو


ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ یہ بلکل ویسی ہی بات ہے جیسے کہ عربی میں "پ" نہیں ہوتا اور فارسی میں "ڈ" نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔