Showing posts with label extremism. Show all posts
Showing posts with label extremism. Show all posts

Wednesday, November 14, 2012

عطاء اللہ کا معاشرہ

ہمارے سماج کی کیفیت۔ ذرائع: businessweek.com

عطاء اللہ بار بار قلم اٹھاتا اور پھر رکھ دیتا۔ کاغذ پر کچھ نشانات بناتا اور پھر مٹا دیتا۔ ریاضی کا طالبِ علم تھا، پر ریاضی کے علاوہ بہت ساری چیزیں اس کے ذہن میں شورش برپا کرتی تھیں۔ سقراط کے بقول انسان ایک سیاسی جانور ہے ۔ آئنسٹائن کا کہنا ہے کہ انسان کو ریاضی اور سیاست کے درمیان اپنا وقت گزارنا چاہیے اور اپنے وقت کا بہترین امتزاج ڈھنڈنا چاہیے۔ پر عطاء اللہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کرنے سے قاصر تھا۔


سائنس اور ریاضی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہ علم امن اور خوشحالی کے دور میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کی شروعات میں جرمنی اور اگلستان کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ جرمنی کیمبرج اور آکسفورڈ پر حملہ نہیں کرے گا اور جواباً انگلستان جامعہِ ہیمبرگ (Hamburg) کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ دونوں ملکوں نے اپنے عہد پر عمل کیا اور دورانِ جنگ بھی علم کو پنپنے کا موقع دیا۔



مگر عطاء اللہ کاملک نہ تو جرمنی تھا اور نہ ہی انگلستان۔ عطاءاللہ پاکستان کا شہری تھا، اور اُسے ہر لمحے کسی نہ کسی قسم کے عذاب سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ عذاب ذہنی کوفت سے شروع ہوتا تھا اور پھر بھنور کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ مسلسل ایک ہی چیز کے بارے میں سوچنے سے اس میں نفسیاتی مرض بھی پیدا ہوگیا تھا۔ عطاء اللہ کو اب اپنا نام بھی پسند نہیں آرہا تھا۔ ہم کلامی کرتے ہوئے بولا، "ملالہ کے قاتل کا نام بھی یہی تھا، اور میرا بھی یہی ہے؟ دنیا میں اربوں نام ہیں پھر ایسا اتفاق صرف میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے؟ کیا مُرفی کا قانون صرف مجھ پر ہی لاگو ہوتا ہے؟ ایسی بدقسمتی صرف میرے ساتھ ہی کیوں؟" ۔ عطاء اللہ یہ جانتا تھا کہ ناموں سے کوئی فرق نہیں ہوتا، پر اس کو اپنے نام سے ملالہ کا قاتل یاد آتا تھا۔



قاتل کا یاد آنا تو ایسی چیز تھی، جس کو عطاءاللہ بھول سکتا تھا۔ پر آئے دن ہونے والی قتل و غارت گری، اس کے ذہن میں تازہ تھی۔ وہ کسی طرح اس بچے کو بھول نہیں سکتا تھا جس کو احمدی ہونے پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ اس لڑکی کا ساتھ نہ دینے پر اپنی شرمندگی کیسے بھولتا جو اپنے علاقے میں عورتوں کی بہتری کیلئے کام کررہی تھی۔ کل ہی اس عورت کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ عطاء اللہ کو اپنا دوست علی مہدی بہت یاد آرہا تھا، جس کے ساتھ اس نے پچھلے سال بلوچستان میں جشنِ نوروز منایا تھا۔ اس کی تین بیٹیوں کے سر پر اب کوئی باپ نہیں رہا تھا۔ علی مہدی کو مذہب کے نام پر مار دیا گیا اور لاتعداد اور علی مہدی مار دیے گئے۔ 



عطاء اللہ کو اپنی پیاری دوست امریتہ کماری بہت یاد آرہی تھی۔ کچھ ماہ قبل اس کی اور امریتہ کی ملاقات ایک بین الاقوامی طبعیاتی نمائش میں ہوئی تھی. امریتہ کو یہ بات جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ عطاء اللہ اس کا ہم وطن ہے۔ امریتہ نے عطاء اللہ کو ڈاکٹر سلام کی تصویر تحفے کے طور پر پیش کی تھی جس کے پیچھے اس نے کارل سیگن (Carl Sagan) کا قول اپنے قلم سے لکھا تھا: "کسی چیز کو سمجھنا دنیا کا سب سے خوبصورت عمل ہے۔" ڈاکٹر سلام کی وہ تصویر اس کی میز پر ہمشہ رکھی رہتی تھی اور وہ قول تو عطاءاللہ کی زندگی کا مقصد تھا۔ لیکن امریتہ سے بات کیے ہوئے بھی ایک سال گز گیا تھا۔ معلوم نہیں امریتہ کہاں ہوگی؟ کیا اس کا بھی مذہب کسی نے زبردستی بدل دیا ہے یا وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھارت چلی گئی ہے۔ اگر وہ اس ملک میں موجود بھی ہے تو کیا اُسے سوچنے کی آزادی موجود ہے؟ کیا امریتہ پاکستان، جو اس کا اپنا ملک ہے، زیادہ خوشی کے ساتھ اپنا کام کرسکتی ہے یہ دیارِ غیر اس کیلئے زیادہ مفید اور پرامن ہے؟ لیکن عطاء اللہ کے ذہن میں ایک اور خیال بھی تھا کہ شاید اس نے سائنس چھوڑ کر اپنے اہلِ مذہب کی خدمت شروع کردی ہو۔ کیونکہ اگر وجود ہی محفوظ نہیں تو کہاں کی سائنس اور کہاں کی ریاضی؟



عطاء اللہ جولیئس کو تو بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ جولئیس کا ہوٹل اس کے گھر سے پیڈل کے رستے پر تھا۔ اس کا چائے کا چھوٹا سا ہوٹل تھا جس میں بی بی مریم کی ایک تصویر صدر دروازے کے اوپر مزین تھی۔ عطاء اللہ کو وہ تصویر ہمیشہ دل فریب محسوس ہوتی تھی اور تصویر دیکھنے پر ہر بار اس پر ایک نئی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ مہینے بھر پہلے جولئیس گرجا گھر میں اپنی عبادت میں مصروف تھا جب اس پر حملہ ہوگیا۔ اس حملے میں وہ بہت زخمی ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ آگر اس نے اپنے ہوٹل پر سے بی بی مریم کی تصویر نہیں ہٹائی تو اگلی بار اس کا ہوٹل نہیں بچے گا۔ جولئیس کے دو چھّوٹے بیٹے تھے جن کا وہ واحد کفیل تھا۔ تصویر ہٹانا ہی زندہ رہنے کا واحد راستہ تھا۔ تصویر ہٹانے کے بعد جولیئس سہم سہم سا گیا تھا، اس کی چائے میں اب پہلی جیسی بات نہیں رہی تھی، رفتہ رفتہ چائے کی کولیٹی میں بھی فرق پڑنے لگا اور لوگوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اور پھر ایسا وقت آیا کہ جولئیس کو شہر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔



کبھی کبھی عطاء اللہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر اس کے ملک میں یہودی ہوتے تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا؟ کیا ان کاحال بھی رحمان بابا کے مزار کی طرح کردیاجاتا؟ خدا کا شکر ہے کہ یہاں کوئی یہودی نہیں، ورنہ ہٹلر بھی شرما جاتا۔



علی مہدی، امریتہ کماری، اور جولئیس کی یادیں عطاء اللہ کو کام کرنے سے روکتی ہیں۔ وہ جب بھی کام کرنا شروع کرتا ہے تو علی کے لطیفے، امریتہ کی ہنسی اور جولئیس کی چائے یاد آجاتی ہے۔



عطاء اللہ خیال کی وادیوں سے پھر حقیقت کی طرف آیا اور کاغذ پر ریاضی کرنا شروع ہوگیا۔ ابھی اس نے سوال ہی لکھا تھا کہ اچانک سے ایک ذور دار آواز آئی۔



"اللہ خیر کرے!"، عطاء اللہ بولا



اس نے اپنی کھڑکی کھولی تو لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ایک ہی سمت میں بھاگتا نظر آیا۔ وہ فوراً ریڈیو کی طرف لپکا اور خبر سنے کے بعد دوبارہ سکتے میں چلا گیا:



"مارکیٹ میں خودکُش حملہ، ۲۰ افراد جاں بحق۔۔۔۔۔۔"

Wednesday, October 17, 2012

پاکستان کی جدید الف بے

ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔

ملالہ کے واقعے سے ایک بات کا پتہ ضرور چلا کہ ابھی بھی اعتدال پسند آواز زندہ ہے۔ ابھی بھی یہ آواز اپنی بات منوانے کی کوشش کررہی ہے، ابھی بھی یہ آواز دریا بہ دریا، کوہ بہ کوہ امن کا پیغام آگے بڑھا رہی ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو اس ملک میں تبدیلی لائے گی اور ترقی کی ذامن بنے گی۔

لیکن جیسے کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا، ذہنی مریضوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کو اس انسانیت سوز واقعے میں بھی سازش کی 'خوشبو' آرہی۔ ان کی عجیب و غریب دلائل کے بارے میں میں پچھلی بار لکھ چکا ہوں۔ نقل دلیل دلیل نباشد۔


آج میں ایک فرضی اردو حروفِ تہجی کی کتاب کا خاکہ پیش کررہا ہوں۔ یہ فرضی کتاب ذہنی مریضوں کیلئے ہے۔ اس کتاب کے کئی الفاظ آپ روز ٹی-وی، اخبار، اس-ایم-اس، انٹرنیٹ، وغیرہ پر پڑھ چکے ہیں۔ یہ الفاظ بہت تیزی کے ساتھ اعتدال پسند سماج کا حصہ بن رہے ہیں، اس لیے اب وقت آکیا ہے کہ ان کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے۔



مریضوں کی اردو


ان جدید حروف تہجی میں "ث"، "ڑ"، اور "ژ" سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ یہ بلکل ویسی ہی بات ہے جیسے کہ عربی میں "پ" نہیں ہوتا اور فارسی میں "ڈ" نہیں ہوتا۔ امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئے الفاظ بھی ایجاد کرلیں گے، جس طرح یہ الٹے سیدھے دلائل دریافت کرلیتے ہیں۔

Sunday, October 14, 2012

ایک نہتی لڑکی سے ڈر گئے

ملالہ یوسف زائی۔ ذرایع: thenews.com.pk

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔


ملالہ یوسف زائی پر ہونے والا حملہ، پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کا سب سے تاریک باب ہے۔ ایک ۱۴ سالہ لڑکی کو سر اور گردن میں صرف اس لیے گولی ماری گئی کیونکہ وہ اپنے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کررہی تھی۔ وہ اعتدال پسندی کی تعلیم دے رہی تھی، اور ایک روشن پاکستان کا خواب دیکھا رہی تھی۔


لیکن کہا جاتا ہے کہ تاریکی میں بھی روشنی کی معمولی سے کرن ہوتی ہے۔ یہ کرن تاریکی پر حاوی ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار لوگو اسلامی انتہاپسند تنظیم طالبان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی گروپوں نے عوامی اجتماعوں میں لوگوں کو اس واقعہ کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد اس واقعے کو نہ صرف انسانیت سوز کہتی ہے بلکہ اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا شاخسانہ گردانتی ہے۔ اس طبقے میں میڈل کلاس لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے جو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور بعد از آن جامعہ بھی۔ ملالہ کے واقعے نے پاکستان کی مہذب آبادی کے دل ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انتہاہ پسندوں کے نظریوں میں جان ختم ہوتی جارہی ہے، کیونکہ اگر یہ نظریہ مصبوط ہوتا ہے تو بچیوں اور بچوں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی اسکولوں کو تباہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہے دہشت کے ذریعے اپنی بات منوانے کی۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ نظریہ طاقت کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ نظریہ طاقت کو رزم گاہ میں استعمال کرتا ہے، ناکہ معصوموں کو خوف و ہراس میں رکھنے کیلئے۔


پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس جرم کی پرزور مذمت کی ہے۔ یہ ایک خوش آئین بات ہے۔ مگر ایک بیمار ذہنیت ایسی بھی ہے جس کو اس واقعے میں بھی کسی سازش کی 'خوشبو' آتی ہے۔ یہ طبقے ایک ایسی خودفریبی کی کھائی میں پھنسا ہوا ہے کہ جس سے نکلنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی کھائی ہے کہ جو خود ان کو اگلنا چاہتی ہے، پر یہ پھر بھی اس سے چپکے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر چیز ایک سازشی تھیوری کی وجہ سے ہورہا ہے، اور یہ لوگ اس تھیوری کو سمجھ گئے ہیں۔ جو لوگ اس تھیوری کو نہیں سمجھنا چاہتے، ان کیلئے یہ طبقہ 'غدار'،  'لاعلم'، اور 'ایجنٹ' کی پرانی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تالاب کا مینڈک دنیا کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔


اس کھائی میں پھنسے بیماروں کا فلسفہ کچھ یوں ہے: "ملالہ پر حملہ ایک امریکی سازش ہے۔ یہ حملہ طالبان نے نہیں کیا، بلکہ یہود و نصاری کی پاکستان اور اسلام کے خلاف چال ہے۔"


فلسفی بنے کی کوشش میں یہ ذہنی بیمار الٹی سیدھی چیزوں کی آپس میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتے:
۱) "ملالہ پر حملے کو بنیاد بنا کر امریکہ پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے"
۲) "امریکہ نے ڈرون کے حملے کو پسِ پوشت ڈال دیا"
۳) "قوم کی بیٹی آفیہ صدیقہ کیوں یاد نہیں آتی؟"
۴) "یہودی گستاخی کے مسئلے کو پسِ پوشت ڈالنا چاہتے ہیں"


آپ کو اس ہی قسم کی کئی باتیں پڑھنے کو ملیں گی۔ اس پر ہنسا جائے یہ رویا جائے، اس کا فیصلہ پڑھنے والا خود کرسکتا ہے۔ میں تو بس اتنا کہوں گا کہ:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کوصاحبِ کردار ہونا چاہیے

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔

کیا واقعی ملالہ ہی ذمہ دار تھی امریکی ڈرون حملوں کی کہ ڈرون حملوں کا بدلہ ایک بچی سے لیا جائے؟ اگر ملالہ نے اوباما کو بڑا آدمی کہا تو کیا اس کو اپنا ہیرو چنے کی آزادی نہیں؟ کیا ضروری ہے کہ وہ بچی بھی ان ہی کو اپنا ہیرو سمجھے جن کو یہ دہشتگرد اپنا ہیرو سمجھتے ہیں؟

جب طالبان خود حملے کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں، تو یہودی بیچ میں کہاں سے آگئے۔ ان کا سرکاری نمائندہ ٹی-وی پر 
فخریہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کررہا ہے، اور اس بات کا اعلان بھی کررہا ہے کہ ایسے حملے اور ہوں گے۔

اور سب سے عجیب بات امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ کی ہے۔ جس کا ہتھیار ہم خریدتے ہیں، جس کی امداد ہم لیتے ہیں، اور جو ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتا ہے، کیا واقعی اسکو ہم سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے؟ وہ صرف امداد بند کردے تو یہ ملک خود بخود ہی کام کرنا چھوڑ دے گا۔ مالک کجا غلام کجا!

قوم کی بیٹی ملالہ ہے، جس نے اپنی زمین نہیں چھوڑی ، اور اپنی جان پر کھیل کر علم کی شمع منور کرنے کی کوشش کی۔ ان ذہنی بیماروں کو علم کی اہمیت کا کیا اندازہ۔ ملالہ نے ہزاروں بچیوں کو زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا حوصلہ فراہم کیا، اس نے دہشت کے خلاف آواز اٹھائی جو آج تک سیاستدان بھی آٹھانے سے ڈرتے ہیں۔


اگرچہ ان بیماروں میں آپ کو ڈاکٹر، انجئنیز، مذہبی پیسے سے تعلق رکھنے والے، معیشت سے تعلق رکھنے والے، اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے بھی نظر آئیں گے، پر یہ اس قوم کی سب سے بڑی بیماری ہیں۔ یہ لوگ نہ سوچ سکتے ہیں، اور نہ سوچنا چاہتے ہیں، اور شاید نہ کبھی سوچ پائیں گے۔ ان پر بلھے شاہ کا یہ کلام ججتا ہے: پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی۔ باقی یہ بات بھی درست ہے کہ ذہنی بیمار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے، چاہے پڑھا لکھا ہو یا غیر پڑھا لکھا۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں انتہاہ پسند جماعتوں، مثلاً، طالبان، کے خلاف عوام کو بیدار کیا جائے۔ ملالہ سے پہلے یہ گروہ کئی اسکول تباہ کرچکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ آج ہی ڈیرہ آدم خیل میں دہشگردی کے واقعہ میں ۱۶ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
 نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
 یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
 نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

Saturday, September 1, 2012

آرم اسڑنگ اور پاکستان

ذرائع: فیس بک/ امریکی ایمبسی


کبھی کبھی پاکستان میں لوگوں کے خیالات اس قدر مسخ شدہ ہوتے ہیں کہ ان پر سوائے ہنسنے کے کچھ اور نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مزاحیہ، فروڈی اسلامی جمہوریہ۔




آج جو خیال میں لکھنے جارہا ہوں اس کا تعلق نیل آرم اسڑنگ کی چاند پر لینڈنگ کے حوالے سے ہے۔ ایک طرف تو پاکستانی عوام میں امریکہ سے سخت نفرت کے کوکھلے جذبات دیکھنے کو ملیں گے، نیٹو سپلائے نامنظور کے فضول نعرے، امریکہ اسلام کا دشمن ہے کی بکواس، امریکہ پاکستان کا دشمن ہے، وغیرہ، وغیرہ۔




لیکن دوسری طرف ایک اور کیفیت بھی موجود ہے، وہ یہ ہے کہ کئی پاکستانیوں نے آرم اسڑنگ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ کئی لوگوں نے آرم اسڑنگ کے کراچی دورے کی تصویر سوشل ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئیٹر پر پیوست کی، کئی ایک نے آرم اسٹرنگ کا چاند پر کہا ہوا جملہ کہ "انسان کے لئے ایک معمولی قدم، پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ" اپنی وال پر لگایا، پاکستانی میڈیا نے انتقال کی "بریکینگ نیوز" آدھے گھنٹے تک دی، شاید عید کے چاند کے بعد، آرم اسڑنگ کا انتقال پاکستان کا دوسرا اہم مسئلہ تھا۔



ان دو کیفیتوں کا تجزیہ بہت دلچسپ ہے۔ ایک طرف تو امریکہ کو گالیاں دی جاتی ہیں، امریکہ کو تباہ کرنے کی باتیں ہوتی ہیں، کفر و اسلام کی جنگ کے یہ پیکر معلوم نہیں جذبات میں کیا کیا بول جاتے ہیں، لیکن دوسری طرف، ایک عظیم امریکی جس کا سب کچھ امریکہ تھا، جس نے امریکہ کا جھنڈا چاند پر لگایا، جس نے امریکہ کو واقعی امریکہ بنایا، اس کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں۔



کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جناب نیل آرم اسڑنگ کی تعریف صرف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ایک کہاوت ہے کہ چاند پر ان کو اذان سنائی دی تھی۔ لیکن 'امریکہ - یہودی' نے اس بات کو مشہور ہونے سے روک دیا۔ وہ لوگ تو آرم اسڑنگ کو قتل کرنے والے تھے لیکن جس کو خدا رکھے، اس کو کون مار سکتا ہے۔ بس اس ہی لیے 'یہودی لوبی' کا پلان فیل ہوگیا! اس تشریح کو اگر اور وسعت دی جائے تو اس کا منطقی نتیجا یہ نکلے گا کہ نیل آرم اسڑنگ نے خوماشی کے ساتھ اسلام قبول کرلیا تھا، لیکن 'یہودی لوبی' سے بچنے کے لیے وہ خاموش رہا!!



ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے مطابق، امریکہ چاند پر گیا ہی نہیں، وہ تو ایک بہت بڑی فلم تھی، جس کو امریکی وزاتِ دفاع نے بنوایا تھا، تاکہ اسلامی دنیا اور روس پر امریکہ اپنی حاکمیت قائم کرسکے۔ یہ تھیوری بھی اس ہی 'فالج زدہ دماغ' کی پیداوار ہے جو نیل آرم اسڑنگ کو مسلمان بنانا چاہتے ہیں۔ اس طبقے کا کمال یہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی طرح ایک انتہائی سنجیدہ موضوع سے بھی کوئی نہ کوئی لطیفہ بنا لیتا ہے۔ لیکن حس لطیف بھی ایک بہت بڑا فن ہے، اس لیے اس کا کریڈت بھی ان ہی کو دینا چاہیے جس نے یہ لطیفہ پہلی بار ایجاد کیا تھا۔ امریکہ کی چاند گاڑی کو فلم کہنا ہمارے 'فالج زدہ دماغوں' کی پیدوار نہیں ، بلکہ یہ خیال خود امریکہ ہی نے پیدا کیا تھا [۱] ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ امریکہ ہر مکتبِ فکر کے لوگوں کو خوش رکھنے چاہتا ہے، ان کو خواب اتنا ہی دیکھاتا ہے، جتنی ان کی اوقات و بساط ہو۔ کیونکہ اگر یہ فالج زدہ دماغ بلکل ہی ختم ہوگیا تو پھر عالمی مسخرے کیسے پیدا ہوں گے۔



میں نے آرم اسڑنگ کی آخری رسومات دیکھیں، وہ اس ہی طرح ہوئی جس طرح ایک عام عیسائی کی ہوتی ہیں، کسی نے اس کے نام کے آگے یا پہچے شہید، سید، رہبرِ انقلاب، مجدادِ ثالث، معظمِ اکبر، نشانِ حیدر، فخرِ امریکہ، فخرِ کائنات، امیدِ نشات ثانیا، وغیرہ، وغیرہ کے القاب نہیں لکھے ہوئے تھا۔ وہ ایک عام آدمی تھا، جس نے زندگی میں بہت غیر معمولی کام کیا تھا، اور پھر عام آدمی کی طرح اپنے خالق تک جاپہنچا.



میں نے بہت ڈھونڈا کے شاید کسی نے جناب آرم اسڑنگ کو پاکستانی بنانے کی کوشش کی ہو۔ لیکن میں ہار گیا۔ مجھے ایک خبر بھی ایسی نہیں ملی جس سے یہ تائثر آتا ہو کہ وہ پاکستانی تھے یا پاکستانی بنا چاہتے تھے۔ میرے خیال میں یہ ان کی دوسری کامیابی ہے کہ وہ پاکستانی ثابت نہ ہوسکے!!!




[۱] چاند پر لینڈنگ - ایک سازش



Thursday, July 12, 2012

معاف کرنا یہ میرے جملے نہیں تھے۔۔۔

ڈاکٹر عبدالسلام۔ ذرائع: Hafsa Khawaja's Blog


"میں ہگس ذرے کے بارے میں بلکل نہیں جاننا چاہتا"، احمد نے چڑ چڑی آواز میں بولا۔ اس کی عمر شاید ۱۵ برس ہوگی، سائنس کا طالبِ علم تھا، طبعیات کا بہت شوق تھا، لیکن معلوم نہیں کیوں ہِگس ذرے کے بارے میں پڑھنا وہ غلط سمجھتا تھا۔

"یار احمد، آخر کوئی وجہ تو بتاو نا پڑھنے کی؟ ہگس صاحب نے تمھاری دیوار پر لگی ہولی وڈ اداکارہ کی تصویر چوری کرلی ہے، یا تمھارا کتّا بھگالے گئے ہیں! ہاہاہا"، عارف نے تفریحاً دریافت کرنے کی کوشش کی۔

"نہیں یار! مجھے تو ہگس ذرہ یہودیوں کی سازس معلوم ہوتی ہے۔ اس نئی تحقیق کے ذریعے وہ ہم کو کنٹرل کرسکتے ہیں۔ وہ اپنا علمی دھونس ہم پر جمانا چاہتے ہیں۔ اگلی بار جب پاکستان میں تباہی آئے گی تو، اس ہی کی وجہ سے آئے گی۔ یہ دیکھو! یہ دیکھو! یہ مقالہ دیکھو!"

یہ کہتے ہوئے، احمد نے کاغذوں کا ڈھیر عارف کو تھما دیا۔ عارف نے مطالعہ شروع کیا تو چند تصاویر اس کی نظر سے گزریں۔ ان تصاویر میں نمایاں تصاویر جنرل ضیاء الحق، زید حامد، بزرگ صحافی زاہد ملک، جنہوں نے ڈاکٹر عبد لقدیر خان پر کتاب لکھی تھی، اور چند مولوی حضرات کی تھیں۔ عارف کو اور بھی کچھ تصاویر نظر آئی، ان میں سے ایک تصویر ڈاکٹر عبدالسلام کی بھی تھی۔ عارف کو حیرت ہوئی کے اُن کی تصویر اس 'فوجی- مذہبی' مقالے میں کیا کررہی ہے۔

"بھائی عارف! ہِگس ذرے کی تحقیق میں اَس آدمی کا بھی ہاتھ ہے"، احمد نے بےساختہ بولا۔ اُس کی شکل پر نفرت نمایاں تھی اور ڈاکٹرسلام کی تصویر کو دیکھنا تک گوارا نہیں کررہا تھا۔

"احمد تم تو سائنس کے طالبِ علم ہو! ڈاکٹر عبدالسلام کا تو ایٹم کی تحقیق میں بنیادی کردار ہے، وہ پاکستان کے واحد نوبل پرائز انعام یافتہ سائنسدان ہیں، تمھاری زبان سے ایسی بات سن کر بہت حیرت ہورہی ہے"، عارف بولا۔

"ڈاکٹر سلام تو یہودی ایجنٹ تھا! تم نے زاہد ملک کی کتاب نہیں پڑھی؟ اس نے پاکستان کے ایٹم بم کے خلاف سازش کی تھی۔ اور اس ہی سازش کی وجہ سے اس کو نوبل انعام ملا تھا۔ اور اُس کا مذہب بھی تم جانتے ہو کیا تھا۔ تم یہ مقالہ پڑھو، تم کو بھی سمجھ آجائے گی کہ ہِگس ذرے کو یورپ میں صرف اس لیے اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ یہ عبدالسلام کا کارنامہ ہے۔ میں تو ہگس کے خیالات کبھی نہیں پڑھوں گا۔"

عارف تو جیسے سکتے میں آگیا ہو۔ پاکستان کا واحد نوبل پرائز وینر کو صرف اس لیے رد کیا جارہا ہے کیونکہ اس کا مذہب کچھ اور ہے۔ اس کو سازشی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کو امریکی ایجنٹ کہا جارہا ہے۔ عارف کے ذہن میں ہٹلر کے زمانے کی تصویر آگئی، اس زمانے میں آئنسٹائن کی کتابیں اس لیے جلائی جاتی تھیں کیونکہ وہ یہودی تھا۔ اس کے کارِ نمایاں کو یہودی مذہب کی پیدوار کہہ کررد کردیا جاتا تھا۔ کیا ہم ڈاکٹر سلام کے ساتھ یہی تو کرنے نہیں جارہے؟ شاید ضیاء الحق کے دور میں جو کتابیں چھپی تھیں، وہ اس رویے کی ذمہ دار ہوں۔ شاید نہ تھمتی ہوئی انتہا پسندی اس کی ذمہ دار ہو، شاید ملک میں عدم برداشت کی کیفیت اس کی ذمہ دار ہو۔ شاید ان سب وجوہات کی آمیزش ہو۔ شاید جنزل ضیاء اور سیاسی مولوی کامیاب ہوئے اور مہذب اور روشن خیال لوگ شکست کھا گئے۔ احمد کی زبان پر ایسے جملے آنا بلکل ایسا ہی تھا کہ مردہ بولنا شروع کردے۔ ایک طبعیات کا طالبِ علم اور ہگس ذرے کو ناپڑھے! واہ!

"احمد، تم کیا کیا نہیں پڑھو گے، یہ تھمارے کمرے میں لگی ہوئی اداکاروں کی تصاویر سے ایم - پی -۳ تک، حسین مساجد سے لے کر حسین گھروں تک، گاڑی سے لے کر ہوائی جہاز تک، یہ تمام علم کہاں سے آیا ہے۔ اور کیا ایک ہندو، عیسائی، یا یہودی سچ نہیں بول سکتا؟ کیا صرف اس مقالے میں شامل "ٹولا" ہی سچ بولتا کی طاقت رکھتا ہے؟ اور تمھارے پڑھنے اور نہ پڑھنے سے دنیا کو کیا فرق پڑھتا ہے، آخر میں تم ہی بسم اللہ کہا کر یورپی گاڑی میں سفر کرو گے۔"، عارف نے مدہم لہجے میں کہا۔

اور پھر عارف پھوٹ پڑھا، "تم چاہو یا ناچاہو، تمھاری اگلی نسل کے لیے عبدالسلام کے خیالات کے بارے میں پڑھنا لازم ہوجائے گا۔ ہگس کی دریافت اتنی ہی اہم معلوم ہوتی ہے جتنی آئنستائن کی دریافت ہے۔ اور کل پرسوں تم ہی تو آئنستائن کے نظریے کی مدد سے اسلام کی حقانیت ثابت کررہے تھے؟ بھول گئے!"، عارف نے آخر میں کہا۔

احمد کی زبان پر اب کوئی جواب نہیں آرہا تھا، اس کا مقالے واقعی کاغذ کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ عارف کی باتیں منطقی معلوم ہورہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں تھی۔ اچانک اس کے اندر کا سائنسدان بول پڑھا:
"معاف کرنا عارف بھائی، میرے جملے میرے نہیں تھے بلکہ سماج نے میرے منہ میں ڈالے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

Monday, June 11, 2012

9 Predictions till next election — Part II

<< Link to Part1

7. Extremism and terrorism will remain a major problem
The biggest ideological battle going on today is between the moderates and the extremists. Pakistan's involvement in the Afghan war in 1980s and in the first decade of 2000 created a plethora of extremist ideological schools. These schools attracted thousands of youngsters and teenagers in the name of fighting an holy war. The primary thesis which these extremists use is to equate moderations with modernism and then equate modernism as a western concept which finally leads to infidelity. Their poignant speeches and nauseas overwhelm the acumen of a common uneducated teenager.

Furthermore, it should be noted that it's not poverty which drives a common Pakistani towards extremist ideologies. In fact, it is the strength of their self-created myths which actuates the commoners. The presumption that poverty leads to extremism is a fallacy. Anti-extremists forces must analysis their fundamental theories in order to effectively tackle this problem. 

Unfortunately, the moderate schools in Pakistan are cowered by the extremist's rhetoric. Most of them leave the country, stop speaking and writing, or just become silent. We can count outspoken moderates on our fingertips, e.g. Dr. Pervez Hoodbhoy, Dr. Mubarrak Ali, and Asma Jahngeer. A shrinking school of moderate ideology allows the extremists to fill up the gap. 

The media also doesn't project this moderate school of thought in their programs. They project Taliban as the winning force in Afghanistan. A winning Taliban in Afghanistan boosts the moral of the Taliban in Pakistan, allowing wide spread terrorism activity in the country. Intellectuals such as Ahmed Rasid and Tariq Ali are totally excommunicated by the mainstream media. Anti-Americanism envenoms the electronic landscape, propagandising against any measure the Unites States takes in relation to Pakistan. Self-tagged intellectual such as Haroon-ur-rasheed, Irfan Siddiqui and Ansar Abbasi completely distort facts and figures to proves their respective point of views. The media anchors also need education and improvement in their intellectual capacity.

The growing influence of Taliban and Al-Qeada in Pakistan, and the Bin Laden's existence in Pakistan clearly shows that Pakistan is fighting a losing war in which the moderates are gradually waning out. The future looks dark for the moderate forces in Pakistan.

8. Islamists will assert more power
Although it is true that right-wingers have never won a majority (except MMA's government in NWFP during Gen. Mussarraf rule), Dr. Mubarak Ali rightly says, that most of the centrist and leftist parties in Pakistan essentially have an Islamic bent in their manifestos. for example, PTI speaks for an Islamic welfare state; PPP slogan says "Islam is our religion, Socialism is are government"; PML(N) calls the nuclear bombs as a victory not just for Pakistan, but for the Islamic world. Such rhetoric are no more different from right-wing rhetoric. All of them use religion for their personal political gains.

In the next elections, political parties will try to attract the growing Islamised population of Pakistan into their political camps. Whether MMA (or any of its derivatives) wins or PML(N) wins, people from the rows of political Islam will assert more power in the parliament.

In KPK province, ANP will face a fiasco. The rising Islamic fronts will completely overwhelm the mindset of the common Pashtoons. Moreover, the secular ideology of ANP wasn't able to improve the standard of living in the province. Changing the name of a province is meaningless without economic benefits for the commoners. The Islamic front will promise a better life in both worlds, which is a more viable option for the unemployed middle-class.

The Hazara community in KPK is agonised  by PML(N) support for renaming N.W.F.P to KPK. They will definitely look for alternatives such as PTI or any other party that provide them identity within KPK.

All in all, the Islamist "golden age" will come in KPK.

9. 'PTI's tsunami' will come to a halt in many parts of the country
PTI's tsunami is more of a media sponsored drama than a real mass movement. The drama is about to end for sure. As PTI is a social media driven party, considering the google trends graph for PTI proofs this:

Graph plotted by Google Trends (11/6/2012)

Analysing the part of the graph in the black box shows two phenomena. Firstly, the search volume index met its spike at the end of December 2011. After this, we observe a steady decline in PTI's search volume. This shows that that teenagers, and other fans are losing hope in PTI's popular rhetoric. Secondly, the news references volume has remain static along this period showing that media tried its best to project PTI and Imran Khan. With all this media deception, the search results for this internet party have fallen down.

PTI also fails to interpret the 18th amendment in its true light. The party pays no heed to the nationalist tendencies in Balochistan and Sindh. They tried to exhibit Pakistan's flag in Quetta, but failed to do so. Only a few Pakistani flags were visible in the PTI's Quetta rally. PTI fails to understand the trouble the common Balochis have with the idea of Pakistan as a federation. The party fails to understand that the 18th amendment has altered the federal character of the state. 

Likewise in Sindh, PTI ridicules MQM and PPP. They fail to understand the mindset of the urdu-speaking middle-class and Sindhi nationalist. They go on with their 'Utopian rhetoric', in which Imran Khan is depicted as a figure between Jinnah and Iqbal.

The ludic PTI will find its adobe in the lands of Northern and Central Punjab and KPK. Their uproar will find no support in Sindh or Balochistan.