Showing posts with label ملالہ، طالبان، Taliban. Show all posts
Showing posts with label ملالہ، طالبان، Taliban. Show all posts

Saturday, January 12, 2013

ذہنی معذوروں کی پہنچان

اصلی تصویر کا لنک: davidicke.com

بلھے شاہ نے خوب فرمایا تھا: "علم پڑھیا اشراف نا ہوون، جھیڑے ہوون اصل کمینے"۔ کمینے کا لفظ بطور گالی کے استعمال نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اپنے اصل معنوں میں لکھا گیا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں : 'کم ہونے کی حالت'۔ اس قبیلہ کے لوگوں میں عقل کی شدید کمی ہے، ان کے دماغ زندان میں ہیں یا کسی کے قبضے میں۔


لوگوں کا ایک قبیلہ ایسا بھی ہے جسکی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔ ماشاءاللہ ان کے پاس ڈگریاں بھی ہیں، انٹرنیٹ بھی استعمال کرتے ہیں، جدید موبائل بھی ہیں جن پر لمحہ با لمحہ تسخیرِ کائنات ہو رہی ہے، انسئکلوپیڈیا کی دوکان بھی گھر میں لگی ہوئی ہے، انگریزی، ریاضی اور سائنس بھی پڑھی ہوئی ہے لیکن مسئلہ یہ کہ اس سب کے باوجود اس قبیلہ کے لوگوں کو مسئلہ سمجھ ہی نہیں آ پاتا۔

بلھے شاہ نے خوب فرمایا تھا: "علم پڑھیا اشراف نا ہوون، جھیڑے ہوون اصل کمینے"۔ کمینے کا لفظ بطور گالی کے استعمال نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اپنے اصل معنوں میں لکھا گیا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں : 'کم ہونے کی حالت'۔ اس قبیلہ کے لوگوں میں عقل کی شدید کمی ہے، ان کے دماغ زندان میں ہیں یا کسی کے قبضے میں۔

یہ بیچارے ڈگریاں تو لاد لیتے ہی جو ردی کا کام کرتی ہے اور دکھاوے کے کام آتی ہیں. یہ مفلوج دماغ والے بھی اس کو حاصل کرلیتے ہیں کیونکہ پیٹ کا مسئلہ ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ یہ کمپیوٹر بھی استعمال کرتے ہیں، پر معلومات کے ذرائع تک پہنچنا ان کی بس کی بات نہیں۔ الٹی سیدھی کہانیاں پیدا کرتے ہیں اور پھر الٹی سیدھی خبریں پیدا کرکے طرح طرح کی مزاحیہ تھیوری بناتے ہیں، جس سے ہر سوچنے والے آدمی کو کوفت آتی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ مفلوج لوگوں کے بارے میں لکھا کیوں جائے؟ میں نے ان لوگوں کو پہنچانے کی ایک کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک تھیوری ہی ہے جس میں ان علامات کا ذکر موجود ہوگا جو ان ذہنی مفلوج لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کسی میں ایک، کسی میں دو، اور کسی میں سب کی سب۔

وہ باتیں جن سے آپ ان ذہنی بیماروں کا پتہ لگا سکتے ہیں، وہ مندرجہ ذیل موجود ہیں۔ ان کے سارے مفروضے ان ہی باتوں کے گرد گھومتے ہیں:


۱۔ عافیہ قوم کی بیٹی ہے، پر ملال کسی اور کی بیٹی ہے۔ ملالا نے اسلام کا مزاخ بنایا۔ اور اس کو طالبان نے نہیں مارا، بلکہ اول تو اس کو گولی ہی نہیں لگی، یہ سب ایک ڈرامہ ہے۔ دماغ میں گولی لگنے کے بعد آدمی بات ہی نہیں کرسکتا!! یہ لڑکی امریکہ کی سازش ہے۔ "چلو آگر مان بھی لیں کے گولی لگی ہے، تو یہ گولی ہرگز ہرگز طالبان نے نہیں ماری بلکہ امریکہ نے خود ماری ہے تاکہ امریکہ پاکستان پر حملہ کرسکے"۔ لیکن جب پوچھا جائے کہ طالبان خود کہتے ہیں ہم نے مارا ہے؟ ان کا جواب ہوتا ہے، "یہ بھی ایک سازش ہے"۔

۲۔ ہر بات میں اپنے آپ کو "دنیا کا واحد ملک" یا "دنیا کا پہلا ملک" ثابت کرنا۔ مثلاً:

  • دنیا کی بہترین فوج۔
  • دنیا کا پہلا اسلام ایٹم بم۔
  • دنیا کا پہلا نظریاتی ملک۔
  • دنیا کا سب سے بڑا مفکر بھی ہمارا ہے۔
  • دنیا کی ساری نعمتیں ہماری ہیں۔
  • دنیا کے سب سے اہم خطے میں واقع ملک۔
  • ہند کے خلاف جہاد بھی یہاں سے شروع ہو گا۔ (مطلب، مستقبل میں بھی یہ ہر کام میں پہلا ملک ہوگا۔
  • ایشیاء کا سب سے اونچا فوارا یہاں ہے۔
  • دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس بنانے کا شرف بھی ہمارا ہے۔
  • دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مجمع بھی رائونڈ میں ہوتا ہے۔
مطلب ہر کام میں یہ دنیا کو مات دے دیتے ہیں۔ بقول شخصے، ہم امریکہ سے ۱۳ گھنٹے آگے ہیں، اس لئے 365 دنوں میں 13*365 یعنی4745 گھنٹے آگے ہوجاتے ہیں۔ امریکہ چاہے بھی تو ہم سے آگے نہیں نکل سکتا۔ ہے کوئی ہم جیسے!

۳۔ گیارہ سال کی بچی پر توہینِ قرآن کے الزام کو ثابت کرنے کیلئے اس کو بیس سال کا ثابت کرنے کی سرجوڑ کوششیں کرنا۔ بس کسی طرح اس کو پھانسی لگ جائے، تو عالمِ کفر پر ہمارا روب قائم ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی توہین نہیں ہوگی۔

۴۔ ممتاز قادری کو غازی علم دین شہید قرار دینا۔ اور سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھنے والوں یا اس کی تعریف کرنے والوں کو کمتر مسلمان سمجھنا۔

۵۔ ایماندار لوگوں کو غدار کہنا۔ مثلاً، حسین حقانی، حسن نثار، ڈاکٹر مبارک علی، پرویز ہود بھائی، ڈاکڑ فصل الرحمان انصاری، ڈاکٹر عبد السلام، شوکت عزیز، بینظیر بھٹو، عاصمہ جہانگیر، اور انصار برنی کو بھی غدار گرداننا۔

دوسری طرف ان ذہنی مفلوج لوگوں کے ہیرو ہیں: انصار عباسی، اوریا مقبول، ہارون الرشید، زید حامد، لال مسجد کے مولانا، ضیاء الحق اور قدرت اللہ شہاب قسم کے بیوروکریٹ۔

۶۔ پاکستان میں اسلامی دہشتگردوں کا کوئی وجود نہیں۔ بلکہ طالبان تو پاکستان کے دوست ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات سب یہود و ہنود کی سازش ہے۔ ضمناً، جو اس مفروضہ کو نہیں مانتا وہ بھی اس سازش کا حصہ بن گیا ہے۔ بیچارا بھٹک گیا ہے۔ حریمِ جاں میں بھٹک رہا ہوں۔ اللہ اس بھٹکے ہوئے آدمی کو ہدایت دے!

۷۔ افغانستان اور پاکستان میں موجود تحریک طالبان میں تفریق کرنا اور ثابت کرنا کہ امریکہ بس کچھ دنوں میں ہار جائے گا۔ اس کے بعد 'سنہرا دور' پھر شروع ہو جائے گا جس میں سارے ظلم ختم ہو جائیں گے۔ خصوصاً، عورت کی بے انتہاہ "عزت" ہوگی۔

۸۔ یہود کو برا کہنا لیکن مرتے وقت ان ہی کی ایجاد کردہ دوائیوں کو استعمال بھی کرنا۔ ان کی بنائے ہوئے جہازوں پر بیٹھ کر حج پر بھی جانا، اور رمضان کا چاند بھی ان ہی کے بنائے ہوئے آلات سے دیکھنا۔

۹۔ بلوچستان میں ہونے والے ہزارہ شعیہ برادری پر حملوں کو بھارت کی سازش قرار دینا۔

۱۰۔ کراچی میں اسلامی انتہا پسندوں کے وجود کو ناماننا اور ہر برائی کو ایم-کیو-ایم کے سر ڈالنا۔ اور اگر اسلامی دہشت گرد تنظیموں کے وجود کو مان بھی لیں تو لاچاری کا تائثر دینا۔ "چلو صحیح ہے ۱۰ لوگوں مرگئے۔ آ پ اپنی نماز پڑھیں، اور بزرگوں کے کام آئیں۔ یہ سب خود ہی صحیح ہو جائے گا"۔


۱۱۔ اسلام اور پاکستان کو لازم و ملزوم قرار دینا۔ پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دینا۔ اور طرح طرح کی عجیب و غریب چیزوں کے ذریعے اس خیال کو ثانت کرنا۔ مثلاً،

  • مدینہ طیبہ : "مدینہ" یعنی "رہنے کی جگہ" اور "طیبہ" یعنی "صاف"۔ پاکستان : "پاک" یعنی صاف۔ "استان" یعنی "رہنے کی جگہ"۔ یعنی دونوں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔
  • ۲۷ رمضان کو قرآن کی پہلی وحی نازل ہوئی، پاکستان بھی اس ہی شب وجود میں آیا۔
  • پاکستان کیلئے بھی ہجرت ہوئی جس طرح مہاجرین نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

۱۲۔ پاکستان قیامت تک کیلئے بنا ہے۔ اس کو کوئی طاقت روئےِ زمین سے نہیں مٹا سکتی۔ بنگلا دیش کا بننا ہند کی چال تھی، جس میں کچھ قصور ہمارا بھی تھا، لیکن اگر بھارت کی چال نہ ہوتی تو بنگلادیش کبھی نہیں بنتا۔

۱۳۔ یہ ماننا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کے نام پر وجود میں آیا، جس کی تشریح علامہ اقبال نے الہ آباد خطبہ (1930) میں کی تھی۔ لیکن بنگلادیش پر دو قومی نظریہ لاگو نہیں ہوتا۔ وہ ہنود سازش تھی، جبکے پاکستان ایک الہامی پروگرام کا حصہ۔


۱۴۔ اور آخر میں جو ان باتوں پر ایمان نہیں رکھتا، وہ سب سے بڑا غدار ہے۔

Sunday, October 14, 2012

ایک نہتی لڑکی سے ڈر گئے

ملالہ یوسف زائی۔ ذرایع: thenews.com.pk

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔


ملالہ یوسف زائی پر ہونے والا حملہ، پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کا سب سے تاریک باب ہے۔ ایک ۱۴ سالہ لڑکی کو سر اور گردن میں صرف اس لیے گولی ماری گئی کیونکہ وہ اپنے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کررہی تھی۔ وہ اعتدال پسندی کی تعلیم دے رہی تھی، اور ایک روشن پاکستان کا خواب دیکھا رہی تھی۔


لیکن کہا جاتا ہے کہ تاریکی میں بھی روشنی کی معمولی سے کرن ہوتی ہے۔ یہ کرن تاریکی پر حاوی ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار لوگو اسلامی انتہاپسند تنظیم طالبان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی گروپوں نے عوامی اجتماعوں میں لوگوں کو اس واقعہ کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد اس واقعے کو نہ صرف انسانیت سوز کہتی ہے بلکہ اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا شاخسانہ گردانتی ہے۔ اس طبقے میں میڈل کلاس لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے جو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور بعد از آن جامعہ بھی۔ ملالہ کے واقعے نے پاکستان کی مہذب آبادی کے دل ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انتہاہ پسندوں کے نظریوں میں جان ختم ہوتی جارہی ہے، کیونکہ اگر یہ نظریہ مصبوط ہوتا ہے تو بچیوں اور بچوں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی اسکولوں کو تباہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہے دہشت کے ذریعے اپنی بات منوانے کی۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ نظریہ طاقت کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ نظریہ طاقت کو رزم گاہ میں استعمال کرتا ہے، ناکہ معصوموں کو خوف و ہراس میں رکھنے کیلئے۔


پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس جرم کی پرزور مذمت کی ہے۔ یہ ایک خوش آئین بات ہے۔ مگر ایک بیمار ذہنیت ایسی بھی ہے جس کو اس واقعے میں بھی کسی سازش کی 'خوشبو' آتی ہے۔ یہ طبقے ایک ایسی خودفریبی کی کھائی میں پھنسا ہوا ہے کہ جس سے نکلنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی کھائی ہے کہ جو خود ان کو اگلنا چاہتی ہے، پر یہ پھر بھی اس سے چپکے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر چیز ایک سازشی تھیوری کی وجہ سے ہورہا ہے، اور یہ لوگ اس تھیوری کو سمجھ گئے ہیں۔ جو لوگ اس تھیوری کو نہیں سمجھنا چاہتے، ان کیلئے یہ طبقہ 'غدار'،  'لاعلم'، اور 'ایجنٹ' کی پرانی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تالاب کا مینڈک دنیا کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔


اس کھائی میں پھنسے بیماروں کا فلسفہ کچھ یوں ہے: "ملالہ پر حملہ ایک امریکی سازش ہے۔ یہ حملہ طالبان نے نہیں کیا، بلکہ یہود و نصاری کی پاکستان اور اسلام کے خلاف چال ہے۔"


فلسفی بنے کی کوشش میں یہ ذہنی بیمار الٹی سیدھی چیزوں کی آپس میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتے:
۱) "ملالہ پر حملے کو بنیاد بنا کر امریکہ پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے"
۲) "امریکہ نے ڈرون کے حملے کو پسِ پوشت ڈال دیا"
۳) "قوم کی بیٹی آفیہ صدیقہ کیوں یاد نہیں آتی؟"
۴) "یہودی گستاخی کے مسئلے کو پسِ پوشت ڈالنا چاہتے ہیں"


آپ کو اس ہی قسم کی کئی باتیں پڑھنے کو ملیں گی۔ اس پر ہنسا جائے یہ رویا جائے، اس کا فیصلہ پڑھنے والا خود کرسکتا ہے۔ میں تو بس اتنا کہوں گا کہ:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کوصاحبِ کردار ہونا چاہیے

مجھے ان ذہنی بیمار لوگوں کو دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے، اور انہیں جلد از جلد ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت بھی ہے۔

کیا واقعی ملالہ ہی ذمہ دار تھی امریکی ڈرون حملوں کی کہ ڈرون حملوں کا بدلہ ایک بچی سے لیا جائے؟ اگر ملالہ نے اوباما کو بڑا آدمی کہا تو کیا اس کو اپنا ہیرو چنے کی آزادی نہیں؟ کیا ضروری ہے کہ وہ بچی بھی ان ہی کو اپنا ہیرو سمجھے جن کو یہ دہشتگرد اپنا ہیرو سمجھتے ہیں؟

جب طالبان خود حملے کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں، تو یہودی بیچ میں کہاں سے آگئے۔ ان کا سرکاری نمائندہ ٹی-وی پر 
فخریہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کررہا ہے، اور اس بات کا اعلان بھی کررہا ہے کہ ایسے حملے اور ہوں گے۔

اور سب سے عجیب بات امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ کی ہے۔ جس کا ہتھیار ہم خریدتے ہیں، جس کی امداد ہم لیتے ہیں، اور جو ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتا ہے، کیا واقعی اسکو ہم سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے؟ وہ صرف امداد بند کردے تو یہ ملک خود بخود ہی کام کرنا چھوڑ دے گا۔ مالک کجا غلام کجا!

قوم کی بیٹی ملالہ ہے، جس نے اپنی زمین نہیں چھوڑی ، اور اپنی جان پر کھیل کر علم کی شمع منور کرنے کی کوشش کی۔ ان ذہنی بیماروں کو علم کی اہمیت کا کیا اندازہ۔ ملالہ نے ہزاروں بچیوں کو زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا حوصلہ فراہم کیا، اس نے دہشت کے خلاف آواز اٹھائی جو آج تک سیاستدان بھی آٹھانے سے ڈرتے ہیں۔


اگرچہ ان بیماروں میں آپ کو ڈاکٹر، انجئنیز، مذہبی پیسے سے تعلق رکھنے والے، معیشت سے تعلق رکھنے والے، اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے بھی نظر آئیں گے، پر یہ اس قوم کی سب سے بڑی بیماری ہیں۔ یہ لوگ نہ سوچ سکتے ہیں، اور نہ سوچنا چاہتے ہیں، اور شاید نہ کبھی سوچ پائیں گے۔ ان پر بلھے شاہ کا یہ کلام ججتا ہے: پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی۔ باقی یہ بات بھی درست ہے کہ ذہنی بیمار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے، چاہے پڑھا لکھا ہو یا غیر پڑھا لکھا۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں انتہاہ پسند جماعتوں، مثلاً، طالبان، کے خلاف عوام کو بیدار کیا جائے۔ ملالہ سے پہلے یہ گروہ کئی اسکول تباہ کرچکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ آج ہی ڈیرہ آدم خیل میں دہشگردی کے واقعہ میں ۱۶ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
 نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
 یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
 نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی