Showing posts with label higg's particle. Show all posts
Showing posts with label higg's particle. Show all posts

Thursday, July 12, 2012

معاف کرنا یہ میرے جملے نہیں تھے۔۔۔

ڈاکٹر عبدالسلام۔ ذرائع: Hafsa Khawaja's Blog


"میں ہگس ذرے کے بارے میں بلکل نہیں جاننا چاہتا"، احمد نے چڑ چڑی آواز میں بولا۔ اس کی عمر شاید ۱۵ برس ہوگی، سائنس کا طالبِ علم تھا، طبعیات کا بہت شوق تھا، لیکن معلوم نہیں کیوں ہِگس ذرے کے بارے میں پڑھنا وہ غلط سمجھتا تھا۔

"یار احمد، آخر کوئی وجہ تو بتاو نا پڑھنے کی؟ ہگس صاحب نے تمھاری دیوار پر لگی ہولی وڈ اداکارہ کی تصویر چوری کرلی ہے، یا تمھارا کتّا بھگالے گئے ہیں! ہاہاہا"، عارف نے تفریحاً دریافت کرنے کی کوشش کی۔

"نہیں یار! مجھے تو ہگس ذرہ یہودیوں کی سازس معلوم ہوتی ہے۔ اس نئی تحقیق کے ذریعے وہ ہم کو کنٹرل کرسکتے ہیں۔ وہ اپنا علمی دھونس ہم پر جمانا چاہتے ہیں۔ اگلی بار جب پاکستان میں تباہی آئے گی تو، اس ہی کی وجہ سے آئے گی۔ یہ دیکھو! یہ دیکھو! یہ مقالہ دیکھو!"

یہ کہتے ہوئے، احمد نے کاغذوں کا ڈھیر عارف کو تھما دیا۔ عارف نے مطالعہ شروع کیا تو چند تصاویر اس کی نظر سے گزریں۔ ان تصاویر میں نمایاں تصاویر جنرل ضیاء الحق، زید حامد، بزرگ صحافی زاہد ملک، جنہوں نے ڈاکٹر عبد لقدیر خان پر کتاب لکھی تھی، اور چند مولوی حضرات کی تھیں۔ عارف کو اور بھی کچھ تصاویر نظر آئی، ان میں سے ایک تصویر ڈاکٹر عبدالسلام کی بھی تھی۔ عارف کو حیرت ہوئی کے اُن کی تصویر اس 'فوجی- مذہبی' مقالے میں کیا کررہی ہے۔

"بھائی عارف! ہِگس ذرے کی تحقیق میں اَس آدمی کا بھی ہاتھ ہے"، احمد نے بےساختہ بولا۔ اُس کی شکل پر نفرت نمایاں تھی اور ڈاکٹرسلام کی تصویر کو دیکھنا تک گوارا نہیں کررہا تھا۔

"احمد تم تو سائنس کے طالبِ علم ہو! ڈاکٹر عبدالسلام کا تو ایٹم کی تحقیق میں بنیادی کردار ہے، وہ پاکستان کے واحد نوبل پرائز انعام یافتہ سائنسدان ہیں، تمھاری زبان سے ایسی بات سن کر بہت حیرت ہورہی ہے"، عارف بولا۔

"ڈاکٹر سلام تو یہودی ایجنٹ تھا! تم نے زاہد ملک کی کتاب نہیں پڑھی؟ اس نے پاکستان کے ایٹم بم کے خلاف سازش کی تھی۔ اور اس ہی سازش کی وجہ سے اس کو نوبل انعام ملا تھا۔ اور اُس کا مذہب بھی تم جانتے ہو کیا تھا۔ تم یہ مقالہ پڑھو، تم کو بھی سمجھ آجائے گی کہ ہِگس ذرے کو یورپ میں صرف اس لیے اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ یہ عبدالسلام کا کارنامہ ہے۔ میں تو ہگس کے خیالات کبھی نہیں پڑھوں گا۔"

عارف تو جیسے سکتے میں آگیا ہو۔ پاکستان کا واحد نوبل پرائز وینر کو صرف اس لیے رد کیا جارہا ہے کیونکہ اس کا مذہب کچھ اور ہے۔ اس کو سازشی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کو امریکی ایجنٹ کہا جارہا ہے۔ عارف کے ذہن میں ہٹلر کے زمانے کی تصویر آگئی، اس زمانے میں آئنسٹائن کی کتابیں اس لیے جلائی جاتی تھیں کیونکہ وہ یہودی تھا۔ اس کے کارِ نمایاں کو یہودی مذہب کی پیدوار کہہ کررد کردیا جاتا تھا۔ کیا ہم ڈاکٹر سلام کے ساتھ یہی تو کرنے نہیں جارہے؟ شاید ضیاء الحق کے دور میں جو کتابیں چھپی تھیں، وہ اس رویے کی ذمہ دار ہوں۔ شاید نہ تھمتی ہوئی انتہا پسندی اس کی ذمہ دار ہو، شاید ملک میں عدم برداشت کی کیفیت اس کی ذمہ دار ہو۔ شاید ان سب وجوہات کی آمیزش ہو۔ شاید جنزل ضیاء اور سیاسی مولوی کامیاب ہوئے اور مہذب اور روشن خیال لوگ شکست کھا گئے۔ احمد کی زبان پر ایسے جملے آنا بلکل ایسا ہی تھا کہ مردہ بولنا شروع کردے۔ ایک طبعیات کا طالبِ علم اور ہگس ذرے کو ناپڑھے! واہ!

"احمد، تم کیا کیا نہیں پڑھو گے، یہ تھمارے کمرے میں لگی ہوئی اداکاروں کی تصاویر سے ایم - پی -۳ تک، حسین مساجد سے لے کر حسین گھروں تک، گاڑی سے لے کر ہوائی جہاز تک، یہ تمام علم کہاں سے آیا ہے۔ اور کیا ایک ہندو، عیسائی، یا یہودی سچ نہیں بول سکتا؟ کیا صرف اس مقالے میں شامل "ٹولا" ہی سچ بولتا کی طاقت رکھتا ہے؟ اور تمھارے پڑھنے اور نہ پڑھنے سے دنیا کو کیا فرق پڑھتا ہے، آخر میں تم ہی بسم اللہ کہا کر یورپی گاڑی میں سفر کرو گے۔"، عارف نے مدہم لہجے میں کہا۔

اور پھر عارف پھوٹ پڑھا، "تم چاہو یا ناچاہو، تمھاری اگلی نسل کے لیے عبدالسلام کے خیالات کے بارے میں پڑھنا لازم ہوجائے گا۔ ہگس کی دریافت اتنی ہی اہم معلوم ہوتی ہے جتنی آئنستائن کی دریافت ہے۔ اور کل پرسوں تم ہی تو آئنستائن کے نظریے کی مدد سے اسلام کی حقانیت ثابت کررہے تھے؟ بھول گئے!"، عارف نے آخر میں کہا۔

احمد کی زبان پر اب کوئی جواب نہیں آرہا تھا، اس کا مقالے واقعی کاغذ کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ عارف کی باتیں منطقی معلوم ہورہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں تھی۔ اچانک اس کے اندر کا سائنسدان بول پڑھا:
"معاف کرنا عارف بھائی، میرے جملے میرے نہیں تھے بلکہ سماج نے میرے منہ میں ڈالے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

Saturday, July 7, 2012

یار پیٹر ہگس ہم سے سیکھو۔۔۔۔

پروفیسر پیٹر ہگس

آج کل دنیا میں 'ہگس ذرہ' موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ماہرینِ طبعیات کا کہنا ہے کہ یہ ذرہ کائنات کے چھپے رازوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا، مثلاً یہ کے معادے میں وزن کہاں سے آتا ہے؟ اور چاند، ستارے، سیارے، کہکشائیں، کیسے آپس میں جڑی رہتی ہیں۔ یورپ کی خبروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے شاید یہ بہت ہی بڑی پیش کوئی رفت ہو۔ آپ چاہیں ڈیوچے ویلا دیکھ لیں یا سی-این-این سن لیں، ہر چینل اس کو ایک بہت بڑے 'بریک تھرو' سے مماثلت دے رہا ہے۔ آخری بار اس قسم کی میڈیا کوریج سائنس کو جب دی گئی تھی جب آنسٹائن کے نظریوں کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث چھڑی تھی۔ یہ بحث بھی کئی دن چلی، اور آخر میں معلوم ہوا کے تجربہ کرنے والے کی اپنی غلطی تھی جس وجہ سے نتیجہ غلط نکلا، نہ کہ آنستائنکا فرمولا غلط ہو۔

مگر دوسری طرف ان خبروں کو پاکستان میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ظاہر ہے، پاکستانیوں کے لیے پیٹر ہگس اور آنسٹائن معمولی لوگ ہیں۔ بچارے ٹائم ضائع کرتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ایک اسمارٹ فون خریدتے اور زندگی کا لطف اٹھاتے۔ یا فیس بک جوائن کرلیتے۔ فیس بک پر برقے کی اہمیت، اسلام کی سربُلندی، اور عورت کی شریعی احیاء کے دستوروں پر ہی کچھ شئیر کرکے ثواب کما لیتے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ایس-ایم-ایس کا نائٹ پیکج آن کرکے رمضان شروع ہونے سے بیس دن پہلے سے 'رمضان ایڈوانس مبارک' کے پیغمات بھیجتے، یہ کوئی حدیث شئیر کرتے یہ کسی بڑے بزرگ کا کوئی قول۔ بلکہ یہ تو بہت ذہین لوگ ہیں، ان کو تو شاید ۲۰۱۴،۲۰۱۵، اور قیامت تک آنے والے تمام رمضانوں کی ایڈوانس مبارکباد بھیجنی چائیے تھی۔ اور اگر نقاب پر انتا زور دیتے جتنا فیس بک پر نظر آتا ہے، تو فزکس کی قسم! تمام عورتیں، باوسیلہ فیس بک نقاب پوش ہوجاتیں۔ اب دیکھو فرانس میں ۲،۰۰۰ نقاب پوش عورتوں کے لیے شور مچتا ہے، لیکن جن ہزاروں عورتوں پر پاکستان میں ظلم ہوتا ہے، اس پر کوئی بات نہیں ہوتی۔

پیڑ ہگس، تم نے تو اتنی تحقیق کرکے بس اتنی سی بات معلوم کی ہے۔ یار! فیس بک استعمال کرو۔ ہر چیز کے لیے مذہنی تاویل تم کو مل جائے گی، چائے بیگ بانگ ہو، انسان کا پیدا ہونا ہو، گرانڈ یونیفکیشن(Grand Unification) کا نظریہ ہو، بگ کرانچ(Big Crunch) کی بات ہو، غرض کے کوئی بھی سائنسی نظریہ ہو، فیس بک پر ہر بات کی کوئی اسلامی تاویل مل جائے گی۔ بھاڑ میں جائے یہ نوبل پرائز، بھاڑ میں جائے طبعیات، بھائی فیس بک پر آو اور ہم سے سیکھو!

چلو آنسٹائن کے زمانے میں نیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا ، پر پیٹر ہگس! تم ۸۳ سال کے ہوگئے ہو تم کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آئے؟ ابھی تو بہت بڑے بڑے کام باقی ہیں، تم کن دو دو روپے کی چیزوں میں وقت ضائع کررہے ہو۔ مجھے تو برہمن نسل پاکستانیوں نے بتایا ہے کہ جس کام میں پیسہ نہ ہو وہ بکار ہے۔ اب پیڑ تم یہ ذرے کس دکان پر بیچو گے، میں تم نہیں خرید رہا!!! ہاہاہاہا

اور یہ ایٹم کیا ہوتا ہے؟ اصل چیز تو ایٹم بم ہے، میرے پاس تو بہت سارے ہیں، تمھارے پاس کتنے ہیں؟ تم بس ان ذروں کے چکر میں پڑے رہو! ہم پاکستانیوں سے ہی کچھ سیکھ لو۔ کیا تمھاری تحقیق سے کوئی نیا اسلحہ بن سکتا ہے؟ کیا ہم ہگس ذرے سے زیادہ لوگوں کو مار سکتے ہیں؟ کیا افواج کو اس کا فائدہ ہے؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے ، تو مجھے مسڑ بہت افسوس ہے کہ تمھاری تحقیق میرے کسی کام کی نہیں۔

یار آنسٹائن ہم تو ہٹلر کے برابر کے لوگوں ہیں۔ ہماری یہاں بھی روز قتل ہوتا ہے، روز معصوم لوگ مرتے ہیں۔ پرسوں ہی ہم نے ایک آدمی کو زندہ جلادیا، کل ہم نے تربت سے ایران جانے والی گاڑی پر حملہ کردیا، آج ہم نے کراچی میں تین لوگوں کو مار دیا۔ چلو ہٹلر سے مقابلہ نہ صحیح، لیکن ہٹلرِ ثانی تو ہم بھی ہیں نا۔ اب تم ڈرو مت، ہم نے کل روس کو مار بھگایا، آج آمریکہ ہار رہا ہے۔

تو مسڑ ہگس، آپ پاکستان کب آرہے ہیں؟